سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 253 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 253

حفاظت الہی و تصرفات اعجازی: سیرت النبی صلی یہ نیم کا ایک نہایت دلچسپ پہلو وہ تصرفات اعجازی اور حفاظت خداوندی ہے جو قدم قدم پر حضرت نبی اکرم صلی ایم کے ساتھ تھی۔یہ خدا کی اپنے پیارے رسول سے محبت اور بے مثال تعلق کا ثبوت ہے۔عاشق رسول صلی ایم سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد تحریرات میں اس پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔الله کچھ ارشادات پہلے مختلف عناوین کے تحت درج کئے جاچکے ہیں۔یہاں بھی کچھ درج کئے جارہے ہیں۔یادر ہے کہ ۵ پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہو تا تھا اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے (۲) دوسر اوہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابو بکر کے چھپے ہوئے تھے (۳) تیسر اوہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔(۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دیدی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا (۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے “ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 263 حاشیہ) ”ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو ۲ دو ٹکڑے کر دیا۔دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شر کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا یعنے کفار مکہ نے آنحضرت صلی ایم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا اور پھر 253