سیرة النبی ﷺ — Page 245
بشر ہونا: "آنحضرت صلی الله ولم نے کھول کر بیان کر دیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (حم السجدة: 7) یعنی کہدو کہ بیشک میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں یہ اس لیے کہ وہ لوگ اعتراض کرتے تھے وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ (الفرقان:8) اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسار سول ہے کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ان کو آخر یہی جواب دیا گیا کہ یہ بھی ایک بشر ہے اور بشری حوائج اس کے ساتھ ہیں۔اس سے پہلے جس قدر نبی اور رسول آئے وہ بھی بشر ہی تھے۔یہ بات انہوں نے بنظر استخفاف کہی تھی۔وہ جانتے تھے کہ آنحضرت مالی تم خود ہی بازاروں میں عموماً سودا سلف خریدا کرتے تھے۔ان کے دلوں میں آنحضرت علی السلام کا جو نقشہ تھا وہ تو نری بشریت تھی۔جس میں کھانا پینا۔سونا۔چلنا۔پھر ناوغیرہ تمام امور اور لوازم بشریت کے موجود تھے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 4 صفحہ 415-414) جس حالت میں ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفی کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے۔اور ہر بات میں ، حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں ، روح القدس کے چمکتے ہوئے نوار نظر آتے ہیں تو پھر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تالوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں“ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن، جلد 5 صفحہ 116) نبی امی آنحضور صلی الم کی شان امیت کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بہت سی تحریرات میں بیان فرمایا ہے۔اور اس اہم اور اعلیٰ پہلو کو جس طرح آپ نے نکھار کر بیان فرمایا ہے وہ آپ کی شان مہدویت کی دلیل ہے۔فرمایا: 245