سیرة النبی ﷺ — Page 244
سے دریافت کیا کہ حضرت کیا میں بھی جنت میں جاؤں گی؟ فرمایا نہیں۔وہ بڑھیا یہ سن کر رونے لگی۔فرمایا روتی کیوں ہے؟ بہشت میں جوان داخل ہوں گے۔بوڑھے نہیں ہوں گے یعنی اس وقت سب جوان ہوں گے۔اسی طرح سے فرمایا کہ: ایک صحابی کی داڑھ میں درد تھا۔وہ چھو ہارا کھاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوہارا نہ کھا کیونکہ تیری داڑھ میں درد ہے۔اس نے کہا کہ میں دوسری داڑھ سے کھاتا ہوں۔پھر فرمایا کہ: ایک بچہ کے ہاتھ سے ایک جانور جس کو حمیر کہتے ہیں چھوٹ گیا۔وہ بچہ رونے لگا۔اس بچہ کا نام عمیر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يَا عُمَيْرُ مَا فَعَلَتْ بِكَ حُمَيْرُ؟ اے عمیر حمیر نے کیا کیا؟ لڑکے کو قافیہ پسند آگیا۔اس لئے چپ ہو گیا“ اخلاق عالیه (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 10-9) ہمارے پیغمبر صل اللہ ہم نے غریبی کو اختیار کیا۔کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی ال نیم کے پاس آیا۔حضرت نے اس کی بہت سی تواضع و خاطر داری کی۔وہ بہت بھوکا تھا۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا اور رضائی میں ہی کر دیا۔جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھاوہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔اس میں دست کیا ہوا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ہم جو حاضر ہیں ہم صاف کر دیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا اس لیے میرا ہی کام ہے اور اُٹھ کر پانی منگوا کر خود ہی صاف کرنے لگے۔وہ عیسائی جبکہ ایک کوس نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چار پائی پر بھول آیا ہوں۔اس لیے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پھر وہ مسلمان ہو گیا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 370-371) 244