سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 242 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 242

طرح خیال کرتے تھے مدح وہی ہوتی ہے جو خدا آسمان سے کرے۔یہ لوگ محبت ذاتی میں غرق ہوتے ہیں ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروا نہیں ہوتی“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 187) ایک دفعہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی انگلی پر تلوار لگی اور خون جاری ہو گیا۔تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہو گئی“ آنحضور صلی اللہ سلم کا ایک مشہور شعر یہ ہے (چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299) انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں او میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں یہ شعر غزوہ حنین میں عین میدان جنگ میں جبکہ آپ ایک موقع پر اکیلے کھڑے تھے کہا تھا۔یہ شعر اپنی ادبی ترتیب اور معانی کے لحاظ سے عدیم المثال ہے۔اس کا ذکر بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں فرمایا ہے۔مندرجہ بالا ارشادات میں آنحضرت صلی اللہ نیم کے ایک شعر کا ذکر ہوا ہے جو انگلی کے زخمی ہونے پر کہا گیا تھا۔وہ شعر یہ ہے هَل أنتِ إِلَّا اصبعُ دَمِيتِ وَفِي سبيل الله ما لقيت تو تو ایک انگلی ہے جو خون بہاتی ہے اور تجھے جو ( رنج ) ملا ہے خدا کی راہ میں ہی ملا ہے۔فارسی زبان میں الہام: ”اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراص ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہو تا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا ” ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چه کنم ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 598) 242