سیرة النبی ﷺ — Page 238
باب ہشتم لباس: آنحضور صلی الیم کے شمائل ”ہمارے آنحضرت ملا علم نہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سر اویل بھی خرید نا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی۔گرتہ۔چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہیے کہ ان میں سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو “ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 3 صفحہ 246) اطاعت، عبادت، خدمت میں اگر صبر سے کام لو تو خدا کبھی ضائع نہ کرے گا اسلام میں ہزاروں ہوئے ہیں کہ لوگوں نے صرف ان کے نور سے ان کو شناخت کیا ہے ان کو مکاروں کی طرح بھگوے کپڑے یا لمبے چونے اور خاص خاص متمیز کرنے والے لباس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ خدا کے راستبازوں نے ایسی وردیاں پہنی ہیں پیغمبر خدائی علیم کا کوئی خاص ایسا لباس نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیز ہو سکتے بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابو بکر کو پیغمبر جان کر ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم و تکریم کرنے لگا آخر ابو بکر اٹھ کر پیغمبر خداسلام کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت علی کمر یہ ہیں میں تو خادم ہوں جب انسان خدا کی بندگی کرتا ہے تو اسے رنگدار کپڑے پہنے، ایک خاص وضع بنانے اور مالا وغیرہ لٹکا کر چلنے کی کیا ضرورت ہے ایسے لوگ دنیا کے کتے ہوتے ہیں خدا کے طالبوں کو اتنی ہوش کہاں کہ وہ خاص اہتمام پوشاک اور وردی کا کریں۔وہ تو خلقت کی نظروں سے پوشیدہ رہنا چاہتے ہیں۔بعض بعض کو خدا تعالیٰ اپنی مصلحت سے باہر کھینچ لاتا ہے کہ اپنی الوہیت کا ثبوت دیوے آنحضرت صلی اللہ ﷺ کو ہر گز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور 238