سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 229 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 229

کے ساتھ وہ ایسا ہے کہ گویا اُس کو کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں۔اگر ایک گھوڑا بوجھ کی حالت میں کچھ چل نہیں سکتا مگر بغیر سواری اور بوجھ خوب چال نکالتا ہے تو وہ گھوڑا کس کام کا ہے ؟ اسی طرح بہادر وہی لوگ ہیں جو تعلقات کے ساتھ ایسے ہیں کہ گویا بے تعلق ہیں۔پاک آدمیوں کی شہوات کو ناپاکوں کی شہوات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ناپاک لوگ شہوات کے اسیر ہوتے ہیں مگر پاکوں میں خدا اپنی حکمت اور مصلحت سے آپ شہوات پیدا کر دیتا ہے اور صرف صورت کا اشتراک ہے جیسا کہ مثلاً قیدی بھی جیل خانہ میں رہتے ہیں اور داروغہ جیل بھی۔مگر دونوں کی حالت میں فرق ہے۔دراصل ایک انسان کا خدا سے کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔بیویاں ہوں اولاد ہو تجارت ہو زراعت ہو اور کئی قسم کے اُس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویا خدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اُس کا تعلق نہیں یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں۔اگر ایک شخص ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اس کی کوئی جو رو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی بوجھ کسی قسم کے تعلق کا اُس کے دامن گیر ہے تو ہم کیونکر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل و عیال اور ملکیت اور مال پر خدا کو مقدم کر لیا ہے اور بے امتحان ہم اُس کے کیونکر قائل ہو سکتے ہیں اگر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے تو ہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لا کر صدہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجر دانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی اُنگلی پر تلوار لگی اور خون جاری ہو گیا۔تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہو گئی۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمر کو یہ حال دیکھ کر رونا آیا۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر تو کیوں روتا ہے۔حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر 229