سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 226 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 226

ہے کرانَ اكْرَمَكُم عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ۔یعنی جس قدر کوئی تقویٰ کی دقیق راہیں اختیار کرے اسی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے پس بلاشبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ماتقدم کی جائے“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 444 تا446) شہد والا واقعہ : نا جائز وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔آنحضرت علی ایم نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے۔خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 231) ایک واقعہ احادیث کی کتب میں بیان گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تم ایک دفعہ اپنی ایک زوجہ کے ہاں تھے کہ اس زوجہ نے آپ صلی علی کرم کو ایک شہد پلایا چونکہ شہد آپ صلی می کنم کو بہت پسند تھا اس لئے آپ صلی علی کل اس زوجہ کے پاس زیادہ دیر ٹھہر گئے جسکی وجہ سے دوسری ازواج نے ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے کہا کہ آپ صلی کریم کے منہ سے شہد کی بو آتی ہے۔اس پر آپ نے قسم کھالی کہ آپ آئندہ کبھی شہد نہیں کھائیں گے۔اس پر سورۃ التحریم کی یہ آیات نازل ہوئیں يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (التحريم: 2، 3) اے نبی !تو کیوں حرام کر رہا ہے جسے اللہ نے تیرے لئے حلال قرار دیا ہے۔تو اپنی بیویوں کی رضا چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے اللہ نے تم پر اپنی قسمیں کھولنا لازم کر دیا ہے۔اور اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ صاحب علم (اور ) صاحب حکمت ہے“ بعض مسلم مفسرین و مورخین نے اس واقعہ کو بعض دیگر واقعات کے ساتھ ملا کر ایلاء و تخییر والے واقعات سے جوڑا ہے۔یہاں اُس مضمون کی تفصیلات میں جانا ضروری نہیں کیونکہ حضور کے مذکورہ بالا ارشاد میں اس کا ذکر نہیں ہے۔226