سیرة النبی ﷺ — Page 224
نکاح نہیں ہوا۔جبر آ اس کو پکڑ لائے تھے اور اس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے۔تو ایسے بد ذات کا کیا علاج ہے ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور راستبازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے۔ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہئے کہ پہلے ان کتابوں کا صحیح صحیح حوالہ دے جو مقبول ہوں اور پھر اعتراض کرے ورنہ ناحق کسی مقدس کی بے عزتی کر کے اپنی ناپاکی فطرت کی ظاہر نہ کرے۔جب ہم سوچتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پیارے بندوں پر ایسے ایسے حرام زادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو بجز اس کے اور کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ تانور کے مقابل پر ظلمت کا خبیث مادہ بھی ظاہر ہو جاوے کیونکہ دنیا میں اضداد اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر رات کا اندھیرا نہ ہو تا تو دن کی روشنی کی خوبی ظاہر نہ ہو سکتی۔پس خدا تعالیٰ اس طور سے پلید روحوں کو مقابل پر لا کر پاک روح کی پاکیزگی زیادہ صفائی سے کھول دیتا ہے“ قضی حَاجَتَہ کی حقیقت: (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 60 تا 63) آنحضور صلی نیم کی طرف حدیث میں ایک واقعہ درج کیا گیا ہے اس کو بنیاد بنا کر بعض غیر مسلم معاندین نے اعتراض کیا کہ ”محمد صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی۔تو آپ نے گھر میں آکر اپنی بیوی سوڈہ سے خلوت کی پس جو شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آسکتا۔جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کرے تو وہ فرد اکمل کیونکر ہو سکتا ہے۔اس کا جواب آپ نے ان الفاظ میں دیا ہے۔ا قول میں کہتا ہوں کہ جس حدیث کے معترض نے الٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔عن جابر ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رأى امرأة فاتي امرأته زينب وهى تمعس منيّة لها فقضى حاجتہ اس حدیث میں سود کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا۔پھر اپنی بیوی زینب کے پاس آئے اور وہ چمڑہ کو مالش کر رہی تھی۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت پوری کی۔اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام و نشان نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کا حسن و جمال پسند آیا بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بڑھی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا 224