سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 223 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 223

اور روز کی لڑائی دیکھ کر جانتے تھے کہ اس کا انجام ایک دن طلاق ہے چونکہ یہ آیتیں پہلے سے وارد ہو چکی تھیں کہ منہ بولا بیٹا در اصل بیٹا نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے آنحضرت کی فراست اس بات کو جانتی تھی کہ اگر زید نے طلاق دے دی تو غالباً خدا تعالیٰ مجھے اس رشتہ کے لئے حکم کرے گا تا لوگوں کے لئے نمونہ قائم کرے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ قصہ قرآن شریف میں بعینہ درج ہے۔پھر پلید طبع لوگوں نے جن کی بدذاتی ہمیشہ افترا کرنے کی خواہش رکھتی ہے خلاف واقعہ یہ باتیں بنائیں کہ آنحضرت خود زینب کے خواہشمند ہوئے حالانکہ زینب کچھ دور سے نہیں تھی کوئی ایسی عورت نہیں تھی جس کو آنحضرت نے کبھی نہ دیکھا ہو یہ زینب وہی تو تھی جو آنحضرت کے گھر میں آپ کی آنکھوں کے آگے جو ان ہوئی اور آپ نے خود نہ کسی اور نے اس کا نکاح اپنے غلام آزاد کردہ سے کر دیا اور یہ نکاح اس کو اور اس کے بھائی کو اوائل میں نامنظور تھا اور آپ نے بہت کوشش کی یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئی۔ناراضگی کی یہی وجہ تھی کہ زید غلام آزاد کردہ تھا۔پھر یہ کس قدر بے ایمانی اور بد ذاتی ہے جو واقعات صحیحہ کو چھوڑ کر افتر اکئے جائیں قرآن موجود بخاری مسلم موجود ہے نکالو کہاں سے یہ بات نکلتی ہے کہ آنحضرت زینب کے نکاح کو خود اپنے لئے چاہتے تھے۔کیا آپ نے زید کو کہا تھا کہ تو طلاق دیدے تا میرے نکاح میں آوے بلکہ آپ تو بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع کرتے تھے۔یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حدیث میں سے لکھی ہیں۔لیکن اگر کوئی اس کے بر خلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوفہ سے اپنے دعوے کو ثابت کرے۔ورنہ بے ایمان اور خیانت پیشہ ہے۔اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہو تا مومنوں پر حرج باقی نہ رہے۔یہ معنے تو نہیں کہ اب زینب کے خلاف مرضی اس پر قبضہ کر لو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر دیوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اس طرف جھکا دیا اور آپ کو فرما دیا کہ ایسا کرنا ہو گا تا امت پر حرج نہ رہے۔اب بھی اگر کوئی باز نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلاوے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرآن کی مفسر ہے اور جو قول ان دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے یوں تو تہمت لگانا سہل ہے۔مثلاً اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل 223