سیرة النبی ﷺ — Page 209
یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک لڑکا یتیم ہے جس کا باپ نہ ماں ہے بے سامان ہے جس کے پاس کسی قسم کی جمعیت نہیں نادار ہے جس کے ہاتھ پلے کچھ بھی نہیں ایسے مصیبت زدہ کی ہمدردی سے فائدہ ہی کیا ہے اور اُس کو اپنا داماد بنانا تو گویا اپنی لڑکی کو تباہی میں ڈالنا ہے مگر اس بات کی خبر نہیں تھی کہ وہ ایک شہزادہ اور روحانی بادشاہوں کا سردار ہے جس کو دنیا کے تمام خزانوں کی گنجیاں دی جائیں گی“ حضرت سودہ سے متعلق ایک اعتراض کا جواب: (روحانی خزائن جلد 3 ، ازالہ اوہام، صفحہ 113 114 حاشیہ) ایک پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ایک خط میں حضرت نبی اکرم صلی کم پر کچھ نہات گندے اعتراضات لکھے۔ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کسی شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت مال اللهم باعث طبعی کراہت کے جو منشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو۔کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میر احشر ہو۔چنانچہ نیل الاوطار کے ص ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے: قَالَ السَّوْدَة بنت زمعة حين اسنت و خافت آن يفارقها رسول الله قالت يا رسول الله وهبت يومى لعائشة فقبل ذلك منها۔۔و رواه ايضًا سعد و سعيد ابن منصور والترمذى و عبد الرزاق قال الحافظ في الفتح فتواردت هذه الروايات على انها خشيت الطلاق۔یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ 209