سیرة النبی ﷺ — Page 208
بیویوں کی تعداد: آپ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت مال الم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپ ساری ساری رات خد اتعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 51) کتب تاریخ وسیرت میں آنحضور صلی ی ﷺ کی ازواج کی تعداد نو سے لیکر تیرہ تک بیان ہوئی ہے۔لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ ایک وقت میں بیویوں کی زیادہ سے زیادہ تعد اد نور ہی ہے۔حضرت خدیجہ سے شادی: اس کتاب میں آنحضور صلی علیہ نیم کے زمانہ شباب کے عنوان میں حضرت خدیجہ سے شادی کی تفصیل بیان ہو چکی ہے۔یہاں حضور کا ایک ارشاد درج کیا جارہا ہے۔”جب سن بلوغ پہنچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے لئے کسی چا وغیرہ نے باوجود آنحضرت کے اول درجہ کے حسن و جمال کے کچھ فکر نہیں کی بلکہ پچیس برس کی عمر ہونے پر اتفاقی طور پر محض خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک مکہ کی رئیسہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے پسند کر کے آپ سے شادی کر لی یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چا ابو طالب اور حمزہ اور عباس جیسے موجود تھے اور بالخصوص ابو طالب رئیس مکہ اور اپنی قوم کے سردار بھی تھے اور دنیوی جاہ و حشمت و دولت و مقدرت بہت کچھ رکھتے تھے مگر باوجود ان لوگوں کی ایسی امیرانہ حالت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ایام بڑی مصیبت اور فاقہ کشی اور بے سامانی سے گذرے یہاں تک کہ جنگلی لوگوں کی بکریاں چرانے تک نوبت پہنچی اور اس دردناک حالت کو دیکھ کر کسی کے آنسو جاری نہیں ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شباب پہنچنے کے وقت کسی چچا کو خیال تک نہیں آیا کہ آخر ہم بھی تو باپ ہی کی طرح ہیں شادی وغیرہ امور ضروریہ کے لئے کچھ فکر کریں حالانکہ اُن کے گھر میں اور اُن کے دوسرے اقارب میں بھی لڑکیاں تھیں۔سو اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر سرد مہری اُن لوگوں سے کیوں ظہور میں آئی اس کا واقعی جواب 208