سیرة النبی ﷺ — Page 206
باب ہفتم عائلی زندگی اور ازواج مطہرات اس باب میں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں آنحضرت صلی علیم کی عائلی زندگی کے بارے بیان کیا گیا ہے۔آپ نے اپنی تحریرات میں آنحضرت صلی علیہ ظلم کی ازواج مطہرات کے مناقب واوصاف کا بھی ذکر فرمایا ہے۔نیز آنحضرت سلیم اور دیگر انبیاء علیهم السلام کی شادی کرنے کی اغراض بیان فرمائی ہیں۔اور امہات المؤمنین سے متعلق غیر مسلم مورخین و معاندین کے اعتراضات کا بھی رڈ فرمایا ہے اور مسلمانوں کے اندر بھی جو بعض بگڑے ہوئے نامناسب عقائد و نظریات راہ پاگئے ہیں انکی بھی اصلاح فرمائی ہے۔انبیاء کی بیوی بچے رکھنے کی غرض: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: بعض نادان لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ جبکہ انبیاء ایسے فنافی اللہ ہوتے ہیں اور دنیا اور اس کی لذتوں سے دور بھاگتے ہیں، پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ بیویاں اور بچے بھی رکھتے ہیں؟ ایسے معترضین اتنا نہیں سمجھتے کہ ایک شخص تو ان باتوں کا اسیر اور ان فانی لذتوں میں فنا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے خلاف انبیاء کا گر وہ ان باتوں سے پاک ہوتا ہے۔یہ چیزیں ان کے لئے محض خادم کے طور پر ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں انبیاء ہر قسم کی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔پس اگر وہ بیوی بچے نہ رکھتے ہوں، تو اس پہلو میں تکمیل اصلاح کیونکر ہو۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ عیسائی لوگ معاشرت کے متعلق حضرت مسیح کا دنیا کے رو برو کیا نمونہ پیش کر سکتے ہیں ؟ کچھ بھی نہیں۔جب وہ اس راہ سے ہی نا واقف ہیں اور مدارج سے ہی بے خبر ، تو وہ کیا اصلاح کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہی کمال ہے کہ ہر پہلو میں آپ کا نمونہ کامل ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں انبیاء پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں اور وہ فانی لذتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کیا کرتے ، بلکہ ان کا دل خدا تعالیٰ کی طرف اس دریا کی ایک تیز دھار کی طرح جو پہاڑ سے گرتی ہے بہتا ہے اور اس کی رو میں ہر خس و خاشاک بہ جاتا ہے “ (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 240) 206