سیرة النبی ﷺ — Page 201
ایمان اور دیانت کے بر خلاف ہے کہ ایسے جامع اجماع کے برخلاف آپ عقیدہ رکھتے ہیں حضرت مسیح کی موت پر یہ ایک ایسا زبردست اجماع ہے کہ کوئی بے ایمان اس سے انکار کرے تو کرے نیک بخت اور متقی آدمی تو ہر گز اس سے انکار نہیں کرے گا اب بتلاؤ کہ حضرت مسیح کی موت پر اجماع تو ہوا زندگی پر کہاں اجماع ثابت ہے برابر تفسیروں والے ہی لکھ جاتے ہیں کہ یہ بھی قول ہے کہ تین دن یا تین گھنٹے کے لئے مسیح مر بھی گیا تھا گویا مسیح کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں۔مینتہ الاولی ومیننہ الاخرای اور امام مالک کا قول ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے مر گیا۔یہی قول امام ابن حزم کا ہے۔معتزلہ برابر اس کی موت کے قائل ہیں اور بعض صوفیہ کرام کے فرقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسی مسیح مر گیا اور اس کے خُلق اور خُو پر کوئی اور شخص اسی اُمت میں سے دنیا میں آئے گا اور بروزی طور پر وہ مسیح موعود کہلائے گا۔اب دیکھو جتنے منہ اتنی ہی باتیں اجماع کہاں رہا۔اجماع صرف موت پر ہوا اور یہی اجماع آپ لوگوں کو ہلاک کر گیا“ تحفه غزنویہ ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 586 تا 587) اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب تک زندہ رہتے تو ہر ج نہ تھا۔اس لئے کہ آپ وہ عظیم الشان ہدایت لے کر آئے تھے جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔اور آپ نے وہ عملی حالتیں دکھائیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ان کا نمونہ اور نظیر پیش نہیں کر سکتا۔میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی ضرورت دنیا اور مسلمانوں کو تھی اس قدر ضرورت مسیح کے وجود کی نہیں تھی۔پھر آپ کا وجود بانجو د وہ مبارک وجود ہے کہ جب آپ نے وفات پائی تو صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ دیوانے ہوگئے۔یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ کہے گا تو میں اُس کا سر جُدا کر دوں گا۔اس جوش کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خاص نور اور فراست عطا کی۔انہوں نے سب کو اکٹھا کیا اور خطبہ پڑھا۔مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ يعنى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر جس قدر رسول آئے وہ سب وفات پا چکے۔اب آپ غور کریں اور سوچ کر بتائیں کہ حضرت ابو بکر صدیق نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ آیت کیوں پڑھی تھی؟ اور اس سے آپ کا کیا مقصد اور منشاء تھا؟ اور پھر ایسی حالت میں 201