سیرة النبی ﷺ — Page 198
جیسا کہ عیسی بن مریم اُٹھائے گئے اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو۔اور پھر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گذر گئے کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔“ (تحفه غزنوید، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 579 تا582) ”پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خَلَتْ کی تشریح فقره أَفَأَن مَاتَ أَوْ قُتِلَ میں پاکر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا ہاں اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اُٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گر ا جاتا ہوں۔سبحان اللہ کیسے سعید اور وقاف عند القرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کر دیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسّان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِكْ فَعَمِنْ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَى فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہو گئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیا کروں۔عیسی مرے یا موسیٰ مرے بیشک مر جائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔“ (تحفہ غزنویہ ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 583) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا۔اس سے 198