سیرة النبی ﷺ — Page 197
اللہ علیہ وسلم) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا ( یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں) پس ابو بکر نے کہا کہ اے عمر بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔پس لوگ ابو بکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابو بکر نے کہا کہ بعد حمد و صلوۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں اور حضرت ابو بکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی۔کہا راوی نے پس بخدا گویا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابو بکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا۔پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابو بکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابو بکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گر جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔وعمر بن الخطاب يكلم الناس يقول لهم مامات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ولا يموت حتى يقتل المنافقين۔یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کر لیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل و محل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا مات فقتلته بسيفى هذا۔وانما رُفع الى السماء كما رفع عيسى ابن مریم علیہ السلام وقال ابوبكر بن قحافة من كان يعبد محمدا فان محمدا قدمات ومن كان يعبد اله محمدٍ فانه حتى لا يموت وقرء هذه الآية وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فرجع القوم الى قولہ۔دیکھو ملل محل جلد ثالث۔ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں 197