سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 196 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 196

واسطے دنیا میں آتے ہیں، جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔پس جب اكملت لكم دينكم کی صدا پہنچی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کا فہم بہت بڑا ہوا تھا اور یہ جو احادیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کی جاویں، مگر ابو بکر کی کھڑ کی مسجد کی طرف کھلی رہے گی۔اس میں یہی سر ہے کہ مسجد چونکہ مظہر اسرار الہی ہوتی ہے اس لئے حضرت ابو بکر صدیق کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہو گا۔انبیاء علیہم السلام استعارات اور مجازات سے کام لیتے ہیں“ وصال پر اجماع صحابہ: ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 293) حجتہ الوداع کے بعد آپ صلی للی یکم صرف اکاسی دن اس دنیا میں رہے۔رفتہ رفتہ صحت کمزور ہوتی گئی۔اور قرب رحلت کی علامات ظاہر ہوتی رہیں۔اور بالآخر وصال کے صدمہ عظیمہ کی گھڑی آگئی۔وصال نبوی پر تمام صحابہ غم سے نڈھال تھے۔حضرت عمرؓ کا شدت غم سے یہ حال تھا کہ تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے کہ اگر کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی علی کی وفات پاگئے ہیں تو اسکی گردن اڑا دوں گا۔حضرت ابو بکر نے اس وقت کمال حکمت و دانائی سے اس معاملہ پر تمام صحابہ کی رہنمائی فرمائی۔بلکہ قیامت تک کے لئے اُمت کو ایک بڑے فتنہ سے بچالیا۔اس وقت جو واقعات رونما ہوئے انکو آپ نے اپنی تحریرات میں درج فرمایا ہے۔واضح ہو کہ اس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصح الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبار تیں ہیں۔اللہ عن عبد عمر ان يجلس فاقبل الناس اليه وتركوا عمر فقال ابوبكراما بعد من منكم يعبد محمدًا فان محمدا قد مات ومن كان منكم يعبد الله فان الله حى لا يموت قال الله وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔الى الشَّاكِرِينَ۔وقال والله كان الناس لم يعلموا انزل هذه الأية حتى تلاها ابوبكر فتلقاها من الناس كلهم فما اسمع بشرا من الناس الايتلوها۔۔ان عمرًا قال والله ماهو الا ان سمعتُ ابابكر تلاها فعقرت حتى بن عباس ان ابابكر خرج وعمر يكلم النّاس فقال اجلس یا عمر فابی ان اللہ ما يقلنى رجلا ي وحتى اهويت الى الارض حتى سمعته تلاها ان النبي صلى الله علیہ وسلم قد مات۔یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو بکر نکلا ( یعنی بروز وفات آنحضرت صلی 196