سیرة النبی ﷺ — Page 195
ایسی عظیم الشان ہے جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔آپ جس بات کو چاہتے تھے جب تک اس کو پورا نہ کر لیا آپ رخصت نہیں ہوئے۔آپ کی رُوحانیت کا تعلق سب سے زیادہ خدا تعالیٰ سے تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ کون اس سے ناواقف ہے کہ اس سر زمین میں جو بتوں سے بھری ہوئی تھی۔ہمیشہ کے لیے بت پرستی دُور ہو کر ایک خدا کی پرستش قائم ہو گئی۔آپ کی نبوت کے سارے ہی پہلو اس قدر روشن ہیں کہ کچھ بیان نہیں ہو سکتا۔آپ ایک خطر ناک تاریکی کے وقت دنیا میں آئے۔اور اس وقت گئے جب اس تاریکی سے دنیا کو روشن کر دیا۔آنحضرت مسلم کی نبوت اور آپ کی قدسی قوت کے کمالات کا یہ بھی ایک اثر اور نمونہ ہے کہ وہ کمالات ہر زمانہ میں اور ہر وقت تازہ بہ تازہ نظر آتے ہیں اور کبھی وہ قصہ یا کہانی کا رنگ اختیار نہیں کر سکتے “ ابو بکر کی کھڑکی کی حقیقت: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 524 تا 526) کتب تاریخ میں درج ہے کہ آخری علالت کے ایام میں آنحضور صلی علی یم نے فرمایا تھا کہ مسجد کی سب کھڑکیاں بند کی جاویں سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ سٹو عني كل خوخة في هذِهِ المسجدِ الَّا خُوخة ابي بكر (سيرت الحلبیہ باب علالت رسول اللہ، زیر عنوان سد ابواب المسجد الا ابی بکر یعنی مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دو سوائے ابو بکر کے دروازے کے۔ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم بحکم الہی تھاروایت ہے کہ آنحضور صلی ا لم نے فرمایا ما انا سددت ابوابكم ولكن اللہ سدھا۔(22) یعنی میں نے تمہارے دروازے بند نہیں کئے بلکہ خدا نے کئے ہیں۔اکثر سیرت نگاروں نے اس واقعہ کو صرف ظاہری الفاظ پر محمول کیا ہے۔لیکن حضور نے اس واقعہ کو ایک عظیم استعارہ قرار دیا ہے۔جو آنحضور صلی کم اور حضرت ابو بکر صدیق کے حقیقی روحانی مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: ”حضرت ابو بکر جن کو قرآن شریف کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ: 4) پڑھی تو حضرت ابو بکر رو پڑے۔کسی نے پوچھا کہ یہ بڑھا کیوں روتا ہے، تو آپ نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔انبیاء علیہم السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں۔جیسے بندوبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے۔تو وہاں سے چل دیتا ہے، اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام جس کام کے 195