سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 188 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 188

بقلتنا۔یعنی آج ہم اپنی قلت کی حالت میں غالب نہیں آئیں گے بلکہ بزور طاقت فتحمند ہوں گے۔(14) خدا تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی اور ایسے حالات پید اہوئے کہ ابتدا میں اسلامی لشکر کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔دشمن کی اچانک تیر اندازی سے اسلامی لشکر پراگندہ ہو گیا۔اور اکثر نو مسلم میدان جنگ سے بھاگ گئے۔اور باقی مخلص مہاجرین کے در میان اور رسول اللہ صلی الم کے درمیان دشمن کی فوج حائل ہو گئی۔اور باوجود کوشش کے بھی وہ رسول اللہ صلی الی یکم تیک حفاظت کے لئے نہ پہنچ سکے۔یہاں تک کہ ایک موقعہ پر آنحضور صلی الہ یکم اکیلے تن تنہا میدان جنگ میں تھے اور یہ شعر پڑھتے تھے انا النبئ لا كذب انا ابنُ عبد المطلب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اللہ کار سول ہوں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔(15) یہ حالات پیدا ہونے کی حکمت آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ: ”جنگ حنین میں حضرت رسول کریم صلی اللہ یکم اکیلے رہ گئے۔اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرت کی شجاعت ظاہر ہو۔جبکہ حضرت رسول کریم ملی ا یکم دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے۔کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقعہ نہیں ملا“ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ : اہل نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے متعلق فرمایا ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 512) فراست بھی ایک چیز ہے۔جیسا کہ ایک یہودی نے آنحضرت صلی کم کو دیکھتے ہی کہ دیا کہ میں ان میں نبوت کے نشان پاتا ہوں اور ایسا ہی مباہلہ کے وقت عیسائی آنحضرت ملی الم کے مقابل پر نہ آئے کیونکہ انکے مشیر نے ان کو کہہ دیا تھا کہ میں ایسے منہ دیکھتا ہوں کہ اگر وہ پہاڑ کو کہیں کہ یہاں سے ٹل جاتو وہ ٹل جائے گا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 259) اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکا را بیگانہ محض پر بھی جا پڑتا ہے۔جیسے ایک عیسائی نے جبکہ مباہلہ کے لئے آنحضرت صلی ا م مع حسنین و حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہم عیسائیوں کے سامنے آئے دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو۔مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ 188