سیرة النبی ﷺ — Page 182
فتح مکہ: تاریخ کی کتب میں بڑی تفصیل سے وہ حالات و واقعات درج ہیں جو بظاہر فتح مکہ کا باعث بنے تھے۔جسکا خلاصہ یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کی ایک شرط کی خلاف ورزی اہل مکہ نے کی اور اس کے نتیجہ میں مدینہ کے مسلمانوں کو مکہ پر چڑھائی کرنی پڑی۔اس طرح آنحضور صلی تعلیم اپنے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔اور اہل مکہ کے لئے اس مقابلہ کی کوئی راہ نہیں تھی۔ان حالات و واقعات کا تفصیل سے ذکر کرنا اس لئے یہاں ضروری نہیں کہ یہ بہت سی کتب میں مذکور ہیں اور مشہور واقعات ہیں۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فتح مکہ کے متعلق سیرت النبی صلی ایم کے اہم بلکہ بہت حسین پہلوؤں کو بیان فرمایا ہے۔فتح مکہ قوت قدسی کا شمر : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان ارشادات میں ایک نہایت اہم نکتہ یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ تمام حالات جو فتح مکہ پر منتج ہوئے دراصل آنحضور صل ال نیم کی دعاؤں کا نتیجہ تھے۔یہ تمام واقعات یعنی معاہدہ حدیبیہ ، اور اسکی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو بکر کا بنو خزاعہ پر حملہ اور مسلمانوں کی فوج کا نہایت راز داری سے مکہ تک پہنچ جانا اور اہل مکہ پر توحید کا مضمون کھل جانا اور انکا بت پرستی سے بیزار ہو کر توحید پر قائم ہو جانا وغیرہ سب اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ فرمایا: آنحضرت علی الم کی دُعائیں دنیا کے لیے نہ تھیں بلکہ آپ کی دُعائیں یہ تھیں کہ بت پرستی دُور ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہو اور یہ انقلاب عظیم میں دیکھ لوں کہ جہاں ہزاروں بت پوجے جاتے ہیں وہاں ایک خدا کی پرستش ہو۔پھر تم خود ہی سوچو اور مکہ کے اس انقلاب کو دیکھو کہ جہاں بت پرستی کا اس قدر چر چاتھا کہ ہر ایک گھر میں بت رکھا ہوا تھا۔آپ کی زندگی ہی میں سارا مکہ مسلمان ہو گیا اور ان بتوں کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا۔اور ان کی مذمت کی۔یہ حیرت انگیز کامیابی یہ عظیم الشان انقلاب کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آتا۔جو ہمارے پیغمبر ملا ہم نے کر کے دکھایا۔یہ کامیابی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 524-525) 182