سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 179 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 179

اسی پاک زندگی کے ثبوت کے لئے ایک اور تاریخی واقعہ ہے جو مسلمانوں کی کتابوں میں متواترات سے ہے اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کی طرف خط لکھے کہ میں خدا کار سول ہوں تم مجھ پر ایمان لاؤ تو منجملہ ان بادشاہوں کے خسرو پرویز بھی تھا جو اپنے تئیں اور عرب کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس خط کو سن کر بہت ناراض ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب خیال کر کے گرفتاری کا حکم دیا کیونکہ عرب کا ملک بھی اس کی حکومت کے متعلق تھا جو یمن کے صوبہ کے ماتحت تھا جب اس کے سپاہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گر فتار کرنے کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا کہ کل صبح جواب دوں گا۔جب وہ صبح کے وقت حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم کس کے پاس مجھے لے جانا چاہتے ہو آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے اور قتل کے لئے اس کے بیٹے کو اس پر مسلط کیا۔پس پاک زندگی اس کو کہتے ہیں جس کے لئے خدا دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے کیا وید کے رشیوں میں اس کا کوئی نمونہ ہے۔“ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 حاشیہ صفحہ 175) حضور نے ان واقعات سے سیرت النبی صلی الی نام کے انمول پہلوؤں کو واضح فرمایا ہے۔اسلامی لٹریچر میں ان واقعات کے دیگر کوائف تفصیل سے ملتے ہیں۔مثلاً بخاری کتاب العلم میں بھی جس کا ذکر آپ نے فرمایا ہے۔یہ واقعات ایسے ہیں کہ غیر مسلم مورخین بھی انکو درج کئے بغیر نہیں رہ سکے۔مثلاً مسٹر گیب نے لکھا: While the Persian monarch contemplated the wonders of his art and power, he received an epistle from an obscure citizen of Mecca, inviting him to acknowledge Mahomet as apostel of God۔He rejected the invitation and tore the epistle۔"It is thus," exclaimed the Arabian prophet "that God will tear the kingdom and reject the supplications of Chosroes۔" Placed on the verge of the two great empires of the east, Mahomet observed with secret joy the progress of the mutual destruction; and in the midst of the Persian triumphs he ventured to fortell, that before many years should elapse, victory would again return to the banners of the Romans۔At the time when this prediction is said to have been delivered, no prophesy could be 179