سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 178 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 178

تھا چھوڑا گیا تھا مگر تاہم بگفتن وہ ملک اسی سلطنت کے ممالک محروسہ میں سے شمار کیا جاتا تھا لیکن سلطنت کی سیاست مدنی کا عرب پر کوئی دباؤ نہ تھا اور نہ وہ اس سلطنت کے سیاسی قانون کی حفاظت کے نیچے زندگی بسر کرتے تھے بلکہ بالکل آزاد تھے اور ایک جمہوری سلطنت کے رنگ میں ایک جماعت دوسروں پر امن اور عدل اپنی قوم میں قائم رکھنے کے لئے حکومت کرتی تھی جن میں سے بعض کی رائے کو سب سے زیادہ نفاذ احکام میں عزت دی جاتی تھی اور اُن کی ایک رائے کسی قدر جماعت کی رائے کے ہم پلہ سمجھی جاتی تھی۔سو بد قسمتی سے کسری کو اس اشتعال کا یہ بھی باعث ہوا کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رعایا میں سے ایک شخص سمجھا لیکن اس معجزہ کے بعد جس کا ذکر متن میں کیا گیا ہے قطعی طور پر حکومت فارس کے تعلقات ملک عرب سے علیحدہ ہو گئے اُس وقت تک کہ وہ تمام ملک اسلام کے قبضہ میں آگیا“ ( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15، حاشیہ صفحہ 376) ایک خبیث اور پلید دل بادشاہ کسری ایران کے فرمان روانے غصہ میں آکر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کرو۔اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو۔وہ خداوند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا میرے سچے خداوند نے اسی کے بیٹے شیر ویہ کو اس پر مسلط کر دیا سو وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔یہ بڑا معجزہ تھا۔اس کو دیکھ کر اُس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اسی رات در حقیقت خسرو پرویز یعنی کسری مارا گیا تھا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے چنانچہ ڈیون پورٹ صاحب بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھتا ہے“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 385، 386) 178