سیرة النبی ﷺ — Page 177
کسری کے نام خط: ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کے نام جو خط لکھا گیا اس کے بارے فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط پہنچنے پر اُس نے بہت غصہ ظاہر کیا اور حکم دیا کہ اُس شخص کو گرفتار کر کے میرے پاس لانا چاہیئے۔تب اس نے صوبہ یمن کے گورنر کے نام ایک تاکیدی پروانہ لکھا کہ وہ شخص جو مدینہ میں پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے جس کا نام محمد ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کو بلا توقف گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔اس گورنر نے اس خدمت کے لئے اپنے فوجی افسروں میں سے دو مضبوط آدمی متعین کئے کہ تاوہ کسریٰ کے اس حکم کو بجالا دیں۔جب وہ مدینہ میں پہنچے اور اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظاہر کیا کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ آپ کو گر فتار کر کے اپنے خداوند کسری کے پاس حاضر کریں تو آپ نے اُن کی اِس بات کی کچھ پرواہ نہ کر کے فرمایا کہ میں اِس کا گل جواب دوں گا۔دوسری صبح جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو (جس کو وہ بار بار خداوند خداوند کر کے پکارتے تھے ) اسی کے بیٹے شیر ویہ کو اُس پر مسلط کر کے قتل کر دیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب یہ لوگ یمن کے اُس شہر میں پہنچے جہاں سلطنت فارس کا گورنر رہتا تھا تو ابھی تک اُس گورنر کو کسری کے قتل کئے جانے کی کچھ بھی خبر نہیں پہنچی تھی اس لئے اُس نے بہت تعجب کیا مگر یہ کہا کہ اِس عدول حکمی کے تدارک کے لئے ہمیں جلد تر کچھ نہیں کرنا چاہیئے جب تک چند روز تک پایۂ سلطنت کی ڈاک کی انتظار نہ کر لیں۔سو جب چند روز کے بعد ڈاک پہنچی تو اُن کا غذات میں سے ایک پروانہ یمن کے گورنر کے نام نکلا جس کو شیر و یہ کسری کے ولی عہد نے لکھا تھا۔مضمون یہ تھا کہ "خسرو میرا باپ ظالم تھا اور اُس کے ظلم کی وجہ سے اُمورِ سلطنت میں فساد پڑتا جاتا تھا اس لئے میں نے اُس کو قتل کر دیا ہے۔اب تم مجھے اپنا شہنشاہ سمجھو اور میری اطاعت میں رہو۔اور ایک نبی جو عرب میں پیدا ہوا ہے جس کی گرفتاری کے لئے میرے باپ نے تمہیں لکھا تھا اُس حکم کو بالفعل ملتوی رکھو“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 376 تا 377) اس جگہ اس بات کا جتلا دینا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ خسرو پرویز کے وقت میں اکثر حصہ عرب کا پایہ تخت ایران کے ماتحت تھا اور گو عرب کا ملک ایک ویرانہ سمجھ کر جس سے کچھ خراج حاصل نہیں ہو سکتا 177