سیرة النبی ﷺ — Page 176
جانتے ہو ہم نے کہا نعم ، محمد رسول اللہ ہاں یہ محمد رسول اللہ ہیں۔فقام قائماً ثم جَلَسَ وَقَالَ وَاللَّهِ انَّهُ لَهُوَ؟ قلنا نعم انه لهُوَ۔یعنی پھر وہ احترام کے لئے کھڑا ہوا اور پھر بیٹھا اور اس نے کہا خدا کی قسم کیا یہی ہیں ہم نے کہا ہاں یہی آپ صلی الیہ کم ہیں۔قیصر کی شہنشاہی: (3) آپ نے آنحضور صلی علی نظم کی عظمت شان میں یہ دلیل بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ قیصر جو نبی صلی ال نیم کے پاؤں دھونے کی تمنا کرتا تھا کوئی معمولی بادشاہ نہیں تھا بلکہ اپنے زمانہ میں اس کو جو طاقت حاصل تھی وہ اس دور میں سلطنت برطانیہ کی ملکہ کو بھی حاصل نہیں تھی۔جیسا کہ فرمایا: کیا آپ کو خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجناب کے وقت میں عیسائی بادشاہ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھاوہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہو سکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا۔۔۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی پھر جبکہ قیصر باوجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجناب مقدس کے پاؤں دھویا کرتا“ (نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 382،383) تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور نبوی کے زمانہ میں عرب کے ارد گرد دو بڑی سلطنتیں رومی ( باز نطینی سلطنت اور دوسری ایرانی سلطنت تھیں۔انکے ہم پلہ اس وقت اور کوئی سلطنت نہ تھی۔جس زمانہ میں اسلام کا ظہور ہوا اس وقت یہ دونوں حکومتیں بر سر پیکار تھیں اور فارسی حکومت مسلسل رومی حکومت پر غالب آرہی تھی۔اس زمانہ میں کسری شاہ ایران نے رومیوں کی مقدس صلیب بھی اپنے قبضہ میں لے لی تھی۔(4) لیکن 625ء میں رومی حکومت کا عروج دوبارہ عروج شروع ہوا اور ایرانی سلطنت مغلوب ہونے لگی۔حتی کہ رومی حکومت ایرانی حکومت کے اندر داخل ہو گئی۔گویا اب رومی حکومت سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت تھی۔اور اتنی عظیم سلطنت کا بادشاہ بھی حضرت محمد صلی علی یم کے پاؤں دھونے کی تمنا کرتا تھا۔(5) 176