سیرة النبی ﷺ — Page 173
لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مدت تک اُس کو مہلت دی گئی۔لیکن چونکہ وہ اس رجوع پر قائم نہ رہ سکا اور اُس نے شہادت کو چھپایا اس لئے کچھ مہلت کے بعد جو اُس کے رُجوع کی وجہ سے تھی پکڑا گیا۔اور اُس کا رجوع اُس کے اس کلمہ سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری کے صفحہ ۴ میں اس طرح پر مذکور ہے۔فان كان ما تقول حقافسیملک موضع قدمیها۔تین۔وقد كنتُ اعلم انه خارج ولم اكن اظن انه منكم فلوانّى اعلم انى أخلص اليه لتجسّمتُ لقاءه۔ولوكنتُ عنده لغسلت عن قدمیہ۔اس عبارت کا ترجمہ کرنے سے پہلے یہ بات ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جبکہ قیصر روم نے ابو سفیان کو جو تجارت کی تقریب سے مع اپنی ایک جماعت کے شام کے ملک میں وارد تھا اپنے پاس بلایا اور اُس وقت قیصر اپنے ملک کا سیر کرتا ہوا بیت المقدس میں یعنی یروشلم میں آیا ہوا تھا اور قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ابو سفیان سے جو اُس وقت کفر کی حالت میں تھا بہت سی باتیں پوچھیں۔اور ابو سفیان نے اس وجہ سے جو اُس دربار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر بھی موجود تھا جو تبلیغ اسلام کا خط لے کر قیصر روم کی طرف آیا تھا بجز راست گوئی کے چارہ نہ دیکھا کیونکہ قیصر نے اُن اُمور کے استفسار کے وقت کہہ دیا تھا کہ اگر یہ شخص واقعات کے بیان کرنے میں کچھ جھوٹ بولے تو اس کی تکذیب کرنی چاہیئے سو ابو سفیان نے پردہ دری کے خوف سے سچ سچ ہی کہہ دیا اور جس قدر قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کچھ حالات دریافت کئے تھے وہ سچائی کی پابندی سے بیان کر دیئے گو اُس کا دل نہیں چاہتا تھا کہ صحیح طور پر بیان کرے مگر سر پر جو مکذبین موجود تھے وہ خوف دامنگیر ہو گیا اور جھوٹ بولنے میں اپنی رسوائی کا اندیشہ ہو ا جب وہ سب کچھ قیصر روم کے رُوبرو بیان کر چکا تو اُس وقت قیصر نے وہ کلام کہا جو مندرجہ بالا عربی عبارت میں مذکورہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں جو تو کہتا ہے تو وہ نبی جو تم میں پیدا ہوا ہے عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جس جگہ یہ میرے دونوں قدم ہیں اور قیصر نجوم کے علم میں بہت دسترس رکھتا تھا۔اس علم کے ذریعے سے بھی اُس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی مظفر اور منصور نبی ہے جس کا توریت اور انجیل میں وعدہ دیا گیا ہے۔اور پھر اُس نے کہا کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ نبی عنقریب نکلنے والا ہے مگر مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے نکلے گا اور اگر میں جانتا کہ میں اُس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں کوشش کرتا کہ اُس کو دیکھوں۔اور اگر میں اُس کے پاس ہوتا تو اپنے لئے یہ خدمت اختیار کرتا کہ اُس کے پیر دھویا کروں۔فقط یہ وہ جواب ہے جو قیصر نے خط کے پڑھنے کے بعد دیا یعنی اس خط کے پڑھنے کے بعد 173