سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 162 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 162

خدا جانے کئی روز تک مصائب سفر اُٹھا کر مکہ معظمہ میں پہنچے۔اگر راہ میں متنبہ کیا جاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور مدینہ منورہ میں واپس آجاتے “ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 471) مندرجہ بالا ارشادات میں سیرت النبی صلی لی کام کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔آپ نے جن آیات قرآنی کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہیں لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُ وسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (الفتح: 28) یقیناً اللہ نے اپنے رسول کو (اس کی) رویا حق کے ساتھ پوری کر دکھائی کہ اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور بالضرور مسجد حرام میں امن کی حالت میں داخل ہو گے ، اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بال کتر واتے ہوئے ، ایسی حالت میں کہ تم خوف نہیں کرو گے۔پس وہ اس کا علم رکھتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے۔پس اس نے اس کے علاوہ قریب ہی ایک اور فتح مقدر کر دی ہے۔حدیبیہ کے سفر سے متعلق جو خواب دکھائی گئی تھی اس کا ذکر متعد د کتب احادیث و سیرت و تفسیر میں ہوا ہے مثلاً امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ تفسیر جلالین تفسیر سورۃ الفتح میں سورۃ الفتح کے شان نزول میں لکھتے ہیں:۔رَأَى رَسُولُ الله صلى اللہ علیہ وسلّم في النومِ عَام الحديبية قبل خروجه أنه يدخلُ مكة هُوَ وَأَصحابه آمنين يُحلقون و يقصرونَ فَأَخبر بذلك اصحابه فَفَرحُوا فلمّا خَرِجُوا مَعَهُ وَصِدِّهُم الكفَّارُ بالحديبية۔رجعوا وَشقٌ عَلَيهم بذلك وَ رَابَ بَعضُ المنافقينَ نَزَلَت ترجمہ :۔رسول اللہ صلی علیکم نے حدیبیہ والے سال (سفر پر) باہر نکلنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ آپ مع صحابہ مکہ میں امن سے داخل ہوئے سر منڈاتے یا تراشتے ہوئے تو آپ نے اس امر کی صحابہ کو خبر دی جس پر وہ خوش ہوئے پس جب وہ آپ کے ساتھ نکلے اور کفار نے انہیں حدیبیہ پر روک دیا تو وہ ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ یہ امر ان پر شاق تھا اور بعض منافقوں نے شک کیا تو سورۃ فتح نازل ہوئی۔ایک نکتہ : "جس قدر انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطر رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہوتے ہیں مسیح نے اپنی جگہ داؤدی تخت کی بحالی والی پیش گوئی کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی۔کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔اب اگر اس پیشگوئی کو پورا کرنے 162