سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 161 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 161

ثابت فرمایا ہے کہ حدیبیہ کا سفر جو بظاہر ایک خواب کے رنگ میں وحی پر مبنی تھا بہت سی فتوحات کی داغ بیل ڈالنے کا موجب ہوا۔اور آپ نے اس واقعہ سے متعلق بعض ابہامات کو بھی دور فرمایا ہے۔خواب اور اجتہاد: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک مرتبہ آپ نے ایک وحی الہی کے مطابق مدینہ سے مکہ کی طرف ایک طول طویل سفر کیا۔اور وحی الہی میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ مکہ کے اندر داخل ہوں گے اور خانہ کعبہ کا طواف کریں گے۔اور وقت نہیں بتایا گیا تھا مگر آنحضرت صلی ا یکم نے محض اجتہاد کی بنا پر اس سفر کی تکلیف اٹھائی۔اور وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا اور مکہ میں داخل نہ ہو سکے۔سو اس جگہ پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی جس سے بعض صحابہ ابتلا میں پڑ گئے“ (ضمیمه بر امین احمد یه روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 249-250) دیکھو آنحضرت عمال السلام کا صلح حدیبیہ کا معاملہ جس میں بعض بڑے بڑے اکابر صحابہ کو بھی ٹھو کر لگ گئی تھی مگر پھر خدا نے انکی دستگیری فرما کر انکو بچا لیا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی اس میں شریک تھے“ (ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 522) اسوا اس کے یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ ایسے امور میں جو عملی طور پر سکھلائے نہیں جاتے اور نہ اُن کی جزئیات مخفیہ سمجھائی جاتی ہیں۔انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکانِ سہو وخطا ہے۔مثلا اس خواب کی بناء پر جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو بعض مومنوں کے لئے موجب ابتلاء کا ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور کئی دن تک منزل در منزل طے کر کے اس بلدہ مبارکہ تک پہنچے مگر کفار نے طواف خانہ کعبہ سے روک دیا اور اُس وقت اس رؤیا کی تعبیر ظہور میں نہ آئی۔لیکن کچھ شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی امید پر یہ سفر کیا تھا کہ اب کے سفر میں ہی طواف میتر آجائے گا اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب وحی میں داخل ہے لیکن اس وحی کے اصل معنے سمجھنے میں جو غلطی ہوئی اس پر متنبہ نہیں کیا گیا تھا تبھی تو 161