سیرة النبی ﷺ — Page 159
بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں۔چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء۔ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔آپ عربی علم سے محض بے نصیب ، اور سخت جاہل ہیں ذرا قادیان کی طرف آؤ اور ہمیں ملو تو پھر آپ کے آگے کتابیں رکھی جائیں گی تا جھوٹے مفتری کو کچھ سزا تو ہو ندامت کی سزا ہی سہی اگر چہ ایسے لوگ شر مندہ بھی نہیں ہوا کرتے “ ( نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9، صفحہ 390-389) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مذکورہ بالا ارشاد کے متعلق خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 2011 میں بڑی تفصیل کے ساتھ اس معاملہ پر روشنی فرمائی۔اس خطبہ کا مضمون سے متعلقہ حصہ درج ہے۔فرمایا: ”جہاں تک چار نمازوں کے جمع کرنے کا سوال ہے یہ سنن ترمذی کی روایت ہے ، اور وہ حدیث اس طرح ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ مشرکین نے نبی کریم صلی الم کو خندق کے روز چار نمازوں سے روکے رکھا، یہاں تک کہ جتنا اللہ نے چاہارات کا حصہ چلا گیا۔پھر آپ صلی الم نے حضرت بلال کو ارشاد فرمایا تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی گئی اور آپ مئی ایم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی اور آپ ملی ایم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی اور آپ ملی ایم نے مغرب کی نماز پڑھائی۔پھر اقامت کہی گئی اور آپ صلی ا ہم نے عشاء کی نماز پڑھائی۔(سنن ترمذی کتاب الصلوۃ باب ما جاء فی الرجل تفوته الصلوات با یتھن ببدء حدیث 179) لیکن صحیح بخاری، مسلم اور سنن ابی داؤد میں حضرت علی کے حوالے سے جو حدیث ہے وہ اس طرح ہے کہ حضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ خندق کے روز رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انکے گھروں اور انکی قبروں کو آگ سے بھرے۔انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔( صحیح بخاری کتاب الجهاد والسير باب الدعا على المشركين بالهزيمة والزلزلۃ حدیث 2931) مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب التغليظ في تفويت صلاة العصر حديث 1420) تو اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ یہ نماز عصر تھی بہر حال جو میں بیان کرنا چاہتا تھاوہ یہ تھا کہ آنحضرت علی الم کو نمازوں کے ضائع ہونے کی اس قدر تکلیف تھی کہ آپ نے دشمن کو بد دعادی۔یہاں تو پھر اس کی اہمیت اس مضمون کے تحت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایک وقت کی نماز کا ضائع کرنا بھی آپ کو برداشت نہیں تھا اور آپ نے 159