سیرة النبی ﷺ — Page 158
اچانک حملہ کے نتیجہ میں اکثر صحابہ باوجود پوری کوشش کے نبی صلی علیہ ہم تک پہنچ نہیں سکے تھے۔اس میں انکی سستی یا بیوفائی کا دخل نہیں تھا۔پس حقیقت یہی ہے کہ ”اس میں صحابہ کا قصور نہ تھا“ غزوہ خندق: غزوہ اُحد کے بعد قریش نے نجدی قبائل اور یہود مدینہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ایک اور جنگ مسلط کی جس کو غزوہ خندق کہتے ہیں۔اسکے تفصیلی حالات کا ذکر اگر چه فرمودات و تحریرات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میں موجود نہیں ہے۔لیکن جیسا کہ یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہ آپ نے تاریخ اسلام اور سیرت النبی صلی ال ظلم کے ہر اس پہلو کا احاطہ فرمایا ہے جس سے متعلق کسی غیر مسلم معاند نے اعتراض کیا ہے یا مسلمانوں میں اس پہلو پر خلاف حقیقت نظریات پائے جاتے ہیں۔آپ نے ہر اس اعتراض کا جواب دیا ہے اور مسلمانوں میں رائج غلط نظریات کی اصلاح فرمائی ہے۔اس غزوہ سے متعلق ایک خط میں پادری فتح مسیح نے نبی اکرم صلی علیکم پر اعتراض کیا کہ خندق کھودتے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں۔پادری صاحب نے قضا سے مراد نماز ادانہ کرنا لیا ہے۔اس کے جواب میں آپ نے روایات کی رُو سے ثابت کیا ہے کہ چار نمازیں چھوڑی نہیں تھیں بلکہ مجبوری کے تحت صرف ایک نماز عصر اپنے اصل وقت سے کچھ تاخیر سے ادا کی تھی۔آپ نے فرمایا: اور آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں اول آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے نادان قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ترک نماز کا نام قضا ہر گز نہیں ہوتا۔اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بے وقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی تک قضا کے معنی بھی معلوم نہیں جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ 158