سیرة النبی ﷺ — Page 151
ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہو اوہ آنحضرت صلی الہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا۔وہ سب آنحضرت صلی کم کی دعاؤں کا اثر تھا۔ورنہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 5 صفحہ 59) آپ نے بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی کمزوری کی حالت کا نقشہ بیان فرمایا ہے۔اور تعداد تین سو تیرہ بیان فرمائی ہے جو تمام کتب سیرت و تاریخ سے ثابت ہے۔طبری میں مختلف روایات میں تین سو دس سے تین سو اٹھارہ تک بیان ہوئی ہے۔ابو جہل کی دعا: پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور اس زمانہ کے شریر اور حرامکار لوگ آنجناب کے دشمن ہو گئے اور مفتری اور کذاب سمجھنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں ایک شخص مستمی عمر و بن ہشام نے جس کا نام پیچھے سے ابو جہل مشہور ہو ا جو کفار قریش کا سر دار اور سرغنہ تھا ان الفاظ سے دُعا کی کہ اللهُمَّ مَنْ كان منا افسد فى القوم واقطعَ للرحم فاحنه اليوم يعنی اے خدا جو شخص ہم دونوں میں سے (اس لفظ سے مراد اپنے نفس اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا) تیری نگہ میں ایک مفسد آدمی ہے اور قوم میں پھوٹ ڈال رہا ہے اور باہمی تعلقات اور حقوق قومی کو کاٹ کر قطع رحم کا موجب ہو رہا ہے آج اُس کو تُو ہلاک کر دے اور ان کلمات سے ابو جہل کا یہ منشاء تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مفسد آدمی ہیں اور قوم میں پھوٹ ڈال کر نا حق قریش کے مذہب میں ایک تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور نیز انہوں نے تمام حقوق قومی تلف کر دیے ہیں اور قطع رحم کا موجب ہو گئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ابو جہل کو یہی یقین تھا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتر اور پاک نہیں ہے۔تبھی تو اس نے دردِ دل سے دُعا کی لیکن اس دُعا کے بعد شاید ایک گھنٹہ بھی زندہ نہ رہ سکا اور خدا کے قہر نے اسی مقام میں اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا اور جن کی پاک زندگی پر وہ داغ لگاتا تھاوہ اس میدان سے فتح اور نصرت کے ساتھ واپس آئے“ (چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 174،175) 151