سیرة النبی ﷺ — Page 150
الحاح کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے، یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں“ (ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 8) ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہو اوہ آنحضرت ملا لی کم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا۔وہ سب آنحضرت صلی ایم کی دعاؤں کا اثر تھا۔ورنہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 59) آپ نے غزوہ بدر کے دن مانگی جانے والی جس دعا کا ذکر فرمایا ہے اسکے الفاظ یہ ہیں اللهم أنجز لي ما وعدتني أنشدك عهدك ووعدك اللهم إن تهلك بذه العصابة لن تعبد في الأرض بعد (1) یعنی: اے خدا اللهم إني اپنے وعدوں کو پورا فرما۔اے اللہ میں تیرے وعدہ اور عہد کا واسطہ دیتا ہوں، اے میرے اللہ اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہو گئی تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا نہیں رہے گا۔مسلمانوں کی کمزور حالت: اس وقت بھی اللہ تعالٰی نے بدر ہی میں مدد کی تھی۔اور وہ مد داخلہ کی مدد تھی۔جس وقت تین سو تیرہ آدمی صرف میدان میں آئے تھے۔اور کل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں۔اور ان تین سو تیرہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہو گی اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمیعت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی جگہ دعا کی اللهمّ إِن أَهْلَكتَ هَذهِ العَصابَةَ لَن تُعبد فی الارض ابداً یعنی اے اللہ ! اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہو گا “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 431،432) 150