سیرة النبی ﷺ — Page 132
منہ پر آسمان پر چڑھ گیا ہو گا مگر خدا کی قدرت کے عجائبات کی کون حد بست کر سکتا ہے۔خدا نے ایک ہی رات میں یہ قدرت نمائی کی کہ عنکبوت نے اپنی جالی سے غار کا تمام منہ بند کر دیا اور ایک کبوتری نے غار کے پر گھونسلا بنا کر انڈے دیدیئے اور جب سراغ رساں نے لوگوں کو غار کے اندر جانے کی ترغیب دی تو ایک بڑھا آدمی بولا کہ یہ سراغ رساں تو پاگل ہو گیا ہے۔میں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔اس بات کو سن کر سب لوگ منتشر ہو گئے اور غار کا خیال چھوڑ دیا“ پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23، صفحہ - 466-467) فرمایا: ”ازاں جملہ ایک یہ کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجودیکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذن الہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑ کر ناکام واپس چلے گئے“ سرمه چشم ر یہ روحانی خزائن جلد 2 حاشیہ صفحہ 66) فرمایا: ”غرض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غار ثور کہتے ہیں۔آپ جا چھپے۔شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے، تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل ہی سر پر آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جائیں گے۔اس وقت آپ نے فرمایا۔لا تحزن إن اللهَ مَعَنَا (التوبہ: ٤٠) کچھ غم نہ کھاؤ۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں؛ چنانچہ فرمایا۔اِن الله مَعَنَا۔معنا میں آپ دونوں شریک ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اور دوسرے پر حضرت صدیق کو رکھا ہے۔اس وقت دونوں ابتلا میں ہیں۔کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی 132