سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 131 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 131

الہام سے بتا دیا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ابو بکر اس ساعت عُسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 1 صفحہ 250) جملہ کتب تاریخ وسیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے حکم کے بعد آپ صلی یا کام فوراً حضرت ابو بکر صدیق کے گھر گئے اور انکو اس حکم کے متعلق بتایا۔حضرت ابو بکر صدیق نے سب سے پہلے اپنی رفاقت کی درخواست نہایت ادب و عاجزی سے الصحبۂ یا رسول اللہ کے الفاظ میں پیش کی۔جو قبول کی گئی۔حضرت ابو بکر کا انتخاب الہام پر مبنی تھا اور الہامی انتخاب کا سب سے بہترین ہونا بھی ثابت ہو گیا۔حضرت ابو بکڑ نے سفر ہجرت کے لئے پر خلوص اور پر حکمت انداز میں تمام انتظام کئے ہوئے تھے۔اس سفر کے لئے پہلے سے ہی دو اونٹنیاں تیار رکھیں، راہبر عبد اللہ بن اریقط اور وفادار غلام عامر بن فہیرہ کی ڈیوٹیاں اور راستہ کے انتخاب وغیرہ پر مشتمل سیکیم آنحضور صلی علیکم کے سامنے پیش کی جس کو منظور کیا گیا اور اسی پر عمل ہوا (6) حضور کے ان ارشادات سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آنحضور صلی ا یکم مکہ سے صرف حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ نکلے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مکہ میں ابو بکر صدیق کے سوا کوئی اس خدمت کے لئے تیار نہیں تھا۔بلکہ آنحضور صلی ال نیم کے تمام اصحاب وفادار اور جانثار تھے۔مکہ میں بھی بہت سے جان نثار صحابہ موجود تھے۔آپ صلی علیہ یکم جس کو بھی اس خدمت کے لئے فرماتے وہ تیار تھا۔فرمایا: حالانکہ مکہ میں آپ کے وفادار اور جاں نثار خدام موجود تھے۔لیکن جب آپ نے ہجرت کی تو صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے لیا۔مگر اس کے بعد جب آپ مدینہ پہنچ گئے تو دوسرے اصحاب بھی یکے بعد دیگرے وہیں جا پہنچے“ غار ثور میں پناہ: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 4 صفحہ 389) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا پس آپ شہر مکہ سے ابو بگر کو ساتھ لے کر نکل آئے اور تین رات تک غار ثور میں چھپے رہے۔دشمنوں نے تعاقب کیا اور ایک سراغ رسان کو لے کر غار تک پہنچے اس شخص نے غار تک قدم کا نشان پہنچا دیا اور کہا کہ اس غار میں تلاش کرو اس کے آگے قدم نہیں۔اور اگر اس کے آگے گیا ہے تو پھر 131