سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 129 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 129

لیسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت ان کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے “ (روحانی خزائن جلد 2 ، سرمه چشم آریہ ، حاشیہ صفحہ 66) پھر دیکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی الله علم کو خدا تعالیٰ نے کیسا بچالیا۔دشمنوں کے بیچ میں سے گزر گئے اور انکے سر پر خاک ڈال گئے مگر انکو نظر نہ آسکے" دشمن کے سامنے سے گزر گئے: ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 10 حاشیہ) آنحضور صلی ال نیم کی ہجرت کے واقعات میں معجزانہ حفاظت ایک نمایاں رنگ رکھتی ہے۔ہر قدم پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی ایم کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھا۔دشمن کی آنکھوں کے سامنے سے گزرے لیکن دشمن آپ کو دیکھ نہ پایا۔روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضور صلی ال یہ ہجرت کے وقت گھر کے دروازہ سے بڑے وقار اور اطمینان سے نکلے ہیں۔آپ صلی اللہ ہم نے نہ تو بھیس بدلہ اور نہ ہی آپ صلی یہ کم گھر کے عقبی دروازہ سے نکلے۔بعض غیر مسلم مورخین نے یہ لکھا ہے کہ محمدصلی یکم عقبی دروازہ سے نکل کر گئے۔مثلاً پر کاش دیو جی نے لکھا ہے کہ ”آپ پچھلی طرف سے کود کر ابو بکر کے ہاں چلے گئے“ (سوانح عمری محمد صاحب)۔یہ بات یا تو لا علمی کی وجہ سے بعض غیر مسلم مورخین نے لکھی ہے یا پھر تعصب کی وجہ سے لکھی ہے۔کیونکہ اسلامی لٹریچر میں جتنی بھی روایات ہیں ان سب سے یہی ظاہر ہو تا کہ آنحضور صلی للی ام اس موقعہ پر خدا تعالیٰ پر کامل تو کل کرتے ہوئے دشمنوں کے سامنے سے گزرے ہیں۔بلکہ اس واقعہ کے ساتھ مسلمان مفسرین اور مورخین نے سورۃ لیس کی اس آیت کا تعلق جوڑا ہے۔جس میں دشمنوں کی نظروں کو اندھا کر دینے کا ذکر ہے وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (يس: (10) اور ہم نے ان کے سامنے بھی ایک روک بنادی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک روک بنادی ہے۔اور اُن پر پردہ ڈال دیا ہے اس لئے وہ دیکھ نہیں سکتے۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی متعدد تحریرات میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ آپ ”دشمنوں کے بیچ میں سے گزر گئے اور انکے سر پر خاک ڈال گئے مگر انکو نظر نہ آسکے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آنحضور صلی یکم کے قتل کا منصوبہ ہوا تھا اور آنحضور عملی کم کو بذریعہ وحی اطلاع ہوئی تھی وہ دوپہر کا وقت تھا قریش کے اس معاہدہ کے فوراًبعد محاصرہ شروع ہو گیا تھا اور دشمن نے آنحضور صلی للہ کم کی نگرانی شروع کر دی تھی اور کسی بھی وقت موقعہ 66 129