سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 127 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 127

شہر سے نکل جاؤ۔اور میں ہر قدم میں تمہارے ساتھ ہوں گا۔پس آپ شہر مکہ سے ابو بکر کو ساتھ لے کر نکل آئے اور تین رات تک غار ثور میں چھپے رہے“ ایک اور جگہ فرمایا: (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 467،466) ”ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کے دشمنوں کے ہاتھ سے بچایا۔مکہ والوں نے اتفاق کر کے باہم عہد کر لیا تھا کہ اس شخص کو جو ہر وقت خدا خدا کر تا اور ہمارے بتوں کی اہانت کرتا ہے گرفتار کر کے بڑے عذاب کے ساتھ اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔مگر خدا نے اپنی خدائی کا کرشمہ ایسا دکھلایا کہ اول اپنی وحی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ اس وقت اس شہر سے نکل جانا چاہیے کہ دشمن قتل کرنے پر متفق اللفظ ہو گئے ہیں“ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 26) کتب سیرت میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی لی کیم کو بذریعہ وحی قریش کے اس خطرناک منصوبہ کی اطلاع ہوئی اور آپ صلی الم کو اس منصوبہ سے محفوظ رکھنے کی تدبیر بھی بتائی گئی۔طبری میں بیان ہے کہ فائی جبريلُ رسول الله فقالَ لَا تبت هذه الليلة على فراشك الذي تبيت عليهِ (4) یعنی حضرت جبریل آئے اور فرمایا آج کی رات آپ اس بستر پر نہ بسر کریں جس پر گزشتہ رات بسر کی تھی۔گھر کا محاصرہ اور توکل علی اللہ : قریش نے اپنے منصوبہ کے مطابق آنحضور صلی نیم کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں آپ صلی الم کی ان انتہائی خطرہ کے لمحوں میں حفاظت فرمائی۔حضور نے ان واقعات کو درج فرمایا ہے اور جہاں مورخین ان واقعات کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہے ہیں وہاں آپ نے انکی اصلاح بھی فرمائی ہے۔اور سیرت کے پر معارف دقائق بھی بیان فرمائے ہیں۔جیسا کہ فرمایا ” ہمارے سید و مولی خیر الرسل محمد صلی اللہ ﷺ کو بھی مکہ معظمہ میں جب دشمنوں نے قتل کرنے کے لئے چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا تھا ایسا ہی اضطراب پیش آیا تھا اور آپ نے دعا بھی نہیں کی تھی بلکہ راضی برضاء مولیٰ ہو کر خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا تھا۔پھر دیکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم کو 127