سیرة النبی ﷺ — Page 126
لَا أَرَى غَيْرَهُ فَتَفرِّقَ القُومُ عَلَى ذَلكَ وَهُم مُجمعُونَ لَه (3) یعنی: ابو جھل بن ہشام نے کہا۔واللہ میری اس میں ایک رائے ہے میرے خیال میں کسی نے ایسا نہیں سوچا ہو گا۔انہوں نے کہا اے ابوالحکم جلد بتا کہ وہ رائے کیا ہے۔اس نے کہا کہ ہر قبیلہ میں سے ایک چنیدہ جو ان تیار رکھیں جب محمد سور ہے ہوں تو وہ اکٹھے ان پر تلواروں سے حملہ کر دیں اور قتل کر دیں۔اس طرح ہم اس شخص (محمد) سے بے فکر ہو جائیں گے۔بنو عبد مناف سب قبائل سے نہیں لڑ سکیں گے۔بالآخر وہ خون بہاما نگیں گے تو ہم مل کر دے دیں گے۔شیخ مسجدی نے کہا۔بس یہی رائے سب سے عمدہ ہے۔اسی پر عملد را مد کرو۔سب اس فیصلہ پر متفق ہو گئے۔وحی کے ذریعہ اطلاع: قریش کے اس بد ارادہ کی اطلاع آنحضور صلی علی یکم کو وحی کے ذریعہ ہوئی۔اسکا ذکر بھی حضرت مسیح موعود علیہ ا نے اپنی کتب میں فرمایا ہے۔بلکہ ایک ہندو مصنف پر کاش دیوجی (مصنف سوانح عمری محمد صاحب) کی بیان کردہ سیرت النبی صلی علیکم کو آپ نے اپنی کتاب میں درج بھی فرمایا ہے۔پر کاش دیوجی نے اس مذکورہ بالا واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ لاعلمی سے خلاف واقعہ لکھا ہے کہ مگر کسی جاں نثار خادم نے آپ کو وقت پر خبر کر دی (چشمہ معرفت جلد 23 حاشیہ صفحہ 262 تا 264) مصنف کی اس غلطی کی اصلاح حضور نے ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ۔آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا اور یہ قول برہمو صاحب کا کہ جب گھر کا قتل کے لئے محاصرہ کیا گیا تو کسی جاں نثار خادم نے آپ کو اطلاع دے دی تھی یہ قول صحیح نہیں ہے بلکہ وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اس نے خود اطلاع دی تھی۔چونکہ برامھ مذہب اس معرفت کی منزل تک نہیں پہنچا کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی طرف سے وحی ہوا کرتی ہے۔لہذا انہوں نے ایسا ہی لکھ دیا“ ایک اور جگہ فرمایا: چشمه معرفت جلد 23 حاشیہ صفحہ 264) اور آخری حملہ یہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔مگر جس کو خدا بچاوے اس کو کون مارے۔خدا نے آپ کو اپنی وحی سے اطلاع دی کہ آپ اس 126