سیرة النبی ﷺ — Page 125
گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔(۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دیدی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا (۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے “ (چشمه معرفت ، روحانی جلد 23 صفحہ 263 حاشیہ) مکہ میں مسلمانوں کا رہنا جب محال ہو گیا تو ادھر خدا تعالیٰ نے بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ کے ذریعہ ہجرت کے راستے پیدا فرما دئے اور واضح ہو گیا کہ خواب میں دکھائے گئے علاقہ سے مراد مدینہ ہے۔بہت سے مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔لیکن ابھی تک آنحضور صلی یہ کم کو خود ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ہجرت کا حتمی حکم ابو جہل اور شیخ مجدی والے واقعہ میں ہونے والے قریش کے خفیہ معاہدہ کے وقت ہوا۔قریش کی جس گفتگو اور معاہدہ کا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا ارشادات میں بیان فرمایا ہے قرآن کریم میں بھی یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (الانفال: 31) اور (یاد کرو) جب وہ لوگ جو کافر ہوئے تیرے متعلق سازشیں کر رہے تھے تاکہ تجھے (ایک ہی جگہ ) پابند کر دیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے ( وطن سے) نکال دیں۔اور وہ مکر میں مصروف تھے اور اللہ بھی ان کے مکر کا توڑ کر رہا تھا اور اللہ مکر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔کتب تاریخ و سیرت میں درج اس کی تفصیلات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کی بنیادی وجہ یہی خفیہ قتل کا معاہدہ تھا۔مثلاً سیرت النبی ابن ہشام میں درج روایت ہے کہ " فقال ابو جهل بن هشام : والله ان لي فيه لراياً ما اراكمُ وقعتم عليه بعد، وقالوا وما هو يا ابالحكم؟ قال أرى ان ناخذ من كل قبيلة شابأفتى جليدًا نسيباً وسيطاً فينا، ثمّ نعطى كل فتى منهم سيفاً صارماً ثمّ يعمدوا عليه فيضربوه بها ضربة رجل واحدِ فيقتلوه فنسريح منه ، فانّهم اذا فعلوا ذلك تفرق دمه فى القبائل جميعاً فلم يقدر بنو عبد مناف على حربِ قومِهِمْ جَمِيعاً فَرضَوا مِنا بالعقلِ فَعقَلنا ه لَهُم يَقولُ الشَّيخُ النَجدِى : القَول مَا قَالَ الرَّجُلُ، هَذا الرَى، 125