سیرة النبی ﷺ — Page 100
نے آپ کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔میرے حق میں بد دعانہ کیجئے گا؛ چنانچہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلی رات تھی جب مجھ میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 47) کتب تاریخ و سیرت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ہجرت حبشہ کے آغاز کے زمانہ میں یعنی نبوت کے پانچویں سال میں اسلام قبول کیا تھا۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا تحریرات کی روشنی میں کتب تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی فطرت در اصل ابتداہی سے اسلام پر قائم تھی جیسا کہ چار برس کا توقف ہو گیا“ کے الفاظ سے اشارہ ملتا ہے۔اگر چہ قبول اسلام سے قبل شدید مخالفین میں سے تھے لیکن آپ کی یہ مخالفت اپنی قوم کی مخلصانہ ہمدردی کی بنا پر تھی۔مکہ جو صدیوں سے صرف ایک ہی مذہب کا شہر تھا اسلام کے وجو د سے دو گروہوں میں بٹ رہا تھا۔مذہب کی بنا پر رشتہ داریوں میں دراڑیں پڑرہی تھیں۔اس افتراق کی وجہ سے آپ قوم قریش کے کمزور ہونے کا خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ان تمام حالات کا قصور وار آپ کی نظر میں اسلام تھا۔اور اسلام کا محور حضرت نبی اکرم صلی علی یم کی ذات اقدس تھی۔یہی وجہ تھی کہ آپ نے ہی اپنی دلیرانہ اور ہمدردانہ فطرت کے باعث حضرت نبی اکرم علی ایم کے قتل کی ذمہ داری اپنے سر لی۔اور اُس معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔جس کا ذکر حضور نے کیا ہے۔کتب تاریخ وسیرت میں درج اس معاہدہ کی تفصیل کے لئے اُم السیر یعنی سیرت الحلبیہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ابو جہل نے یہ اعلان کیا کہ جو شخص محمد کو قتل کرے گا میری طرف سے وہ سو سُرخ و سیاہ اونٹوں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی کا انعام پائے گا۔ایک روایت میں اس طرح درج ہے کہ جو شخص محمد کو قتل کرے گا اسکواتنے اوقیہ سونا اور اتنے اوقیہ چاندی اتنے اتنے اوقیہ مشک،اتنے تھان کپڑا اور اسکے علاوہ دوسری چیزیں بھی انعام ملیں گی۔یہ سُن کر مجمع میں سے حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور بولے اس انعام کا حقدار میں بنوں گا۔لوگوں نے کہا بے شک عمر اگر تم یہ کام کرو تو یہ انعام تمہارا ہو گا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے باقاعدہ عہد لیا۔(20) امام سیوطی نے الخصائص الکبری میں معاہدہ والی روایت کو حضرت عمر کی ہی بیان کردہ روایت سے درج کیا ہے (27) حضرت عمرؓ اپنے اس عہد کی تکمیل کا عزم لئے ہوئے تھے کہ ہجرت حبشہ کا زمانہ آگیا اور مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔حضرت عمر کو مکہ کی ویرانی کا خطرہ اور غم محسوس ہونے لگا جس کا اظہار اس مشہور واقعہ سے ہوتا ہے کہ جب مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ام عبد اللہ بنت حثمہ سے روایت ہے کہتی ہیں جس وقت ہم ہجرت کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔اور عامر اس وقت کسی کام کو گئے ہوئے تھے اچانک عمر بن خطاب میری طرف آنکلے۔یہ اس وقت کفر ہی کی حالت میں 100