سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 99 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 99

وَجَنَانِی یعنی اے میرے مولیٰ میری روح اور میرے دل نے بھی تجھے سجدہ کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کو سن کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچا ہے اور ضرور کامیاب ہو جائے گا۔مگر نفس امارہ بر ہوتا ہے۔جب آپ نماز پڑھ کر نکلے۔میں پیچھے پیچھے ہو لیا۔پاؤں کی آہٹ جو آپ کو معلوم ہوئی۔رات اندھیری تھی۔آنحضرت علی الم نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ عمر۔آپ نے فرمایا۔اے عمر نہ تو رات کو پیچھا چھوڑتا اور نہ دن کو۔اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم بد دعا کریں گے۔میں نے عرض کی کہ یا حضرت ! بد دعانہ کریں۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ وہ وقت اور وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا“ ایک اور جگہ آنے فرمایا: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 424-425) حضرت عمر فیا آنحضرت صلی الم کے قتل کے لیے جانا آپ لوگوں نے سنا ہو گا۔ابو جہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالتمآب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام و اکرام کا مستحق ہو گا۔حضرت عمر نے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ابو جہل سے معاہدہ کیا اور قتل حضرت کے لیے آمادہ ہو گیا۔اس کو کسی عمدہ وقت کی تلاش تھی۔دریافت پر اُسے معلوم ہوا کہ حضرت نصف شب کے وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سر شام خانہ کعبہ میں جا چھپے۔آدھی رات کے وقت جنگل میں سے لا الہ الا اللہ کی آواز آناشروع ہوئی۔حضرت عمر نے ارادہ کیا کہ جب آنحضرت ملا ل لا سجدہ میں گریں تو اس وقت قتل کروں۔آنحضرت صلیم نے درد کے ساتھ مناجات شروع کی اور سجدہ میں اس طرح حمد الہی کا ذکر کیا کہ حضرت عمر عادل پسیج گیا۔اس کی ساری جرآت جاتی رہی اور اس کا قاتلانہ ہاتھ سست ہو گیا۔نماز ختم کر کے جب آنحضرت صلی اہم گھر کو چلے تو ان کے پیچھے حضرت عمر ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے آہٹ پاکر دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ اے عمر کیا تو میرا پیچھا نہ چھوڑے گا۔حضرت عمرؓ بد دعا کے ڈر سے بول اُٹھے کہ حضرت میں 99