سیرة النبی ﷺ — Page 98
تاریخ کی کتب ان واقعات کو سمیٹ نہیں سکتیں۔یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اُن شدائد وآلام کی جو اس دور میں مسلمانوں پر گزر رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عمر کے قبولِ اسلام کو آنحضور صلی یکم کی دعا کا معجزہ قرار دیا ہے اور آپ نے اپنی تحریرات میں حضرت عمرؓ کے بلند روحانی مقام اور آپ کی آنحضور صلی نیم سے انتہا درجہ کی محبت کا بھی نہایت دلکش الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔اس سلسلہ میں چند تحریرات پیش ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا سر ہے۔ابو جہل نے کوشش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔اس وقت حضرت عمر بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے۔اور شوکت رکھتے تھے۔انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمر اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو شہید کرنے جاتے ہیں۔دوسرے وقت وہی عمر اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔وہ کیا عجیب زمانہ تھا۔غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔اس تحریر کے بعد آپ کی تلاش اور تجسس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے کہ کہیں تنہا مل جاویں تو قتل کر دوں۔لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ یہ سنکر بہت ہی خوش ہوئے چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لا الہ الا اللہ کی آواز آتی ہوئی سنائی دی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی آواز تھی۔اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے وہ ادھر ہی کو آرہی ہے۔حضرت عمر اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے ، تو تلوار مار کر تن مبارک سر سے جدا کر دوں گا۔آپ نے آتے ہی نماز شروع کر دی۔پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعائیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی کہا سَجَدَ لكَ رُوحى 98