سیرة النبی ﷺ — Page 96
محصوری کے واقعہ کے وقت اس نے بنی ہاشم سے علیحدگی اختیار کرلی اور باقاعدہ مخالفت اور مظالم میں شامل ہو گیا بلکہ مظالم کی انتہا کر دی اسکی بیوی بھی مظالم میں کسی سے کم نہ تھی۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کا ذکر سورۃ لہب میں کیا ہے۔اس سورت کے نزول کے بعد یہ دونوں مخالفت کی آگ میں اور زیادہ بھڑک اُٹھے۔اور آنحضور صلی علیم کے راستے میں کانٹے بچھانا اور ہجو کرنا انکا معمول ہو گیا۔(20) حضور نے جیسا کہ فرمایا ہے کہ آنحضور صلی ا ہم جب وعظ کے لئے کھڑے ہوتے تو لوگ شور مچاتے تاکہ لوگ آپ کی آواز سُن نہ سکیں۔اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ(حم 27) اور اُن لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا، کہا کہ اس قرآن پر کان نہ دھرو اور اُس کی تلاوت کے دوران شور کیا کرو تا کہ تم غالب آجاؤ۔آپ نے مذکورہ بالا تحریر (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 257-258) میں ایک بد بخت کی آپ صلی الی یکم کے گلے میں پڑکاڈال کر قتل کی کوشش کا جو واقعہ بیان فرمایا ہے اسکی تفصیل کتب سیرت میں سے طبری کی ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ عقبہ بن معیط نے کعبہ کے قریب محمد صلی للی کام کے گلے میں کپڑا ڈال کر اسے بل دینا شروع کیا اس سے آپ کا سانس رُک گیا حضرت ابو بگر اچانک وہاں آئے تو یہ دیکھ کر آپ نے عقبہ بن معیط کو پکڑ کر پیچھے کیا اور کہا۔يَا قَومِ ا تقتلونَ رَجُلاً أَن يَقول رَبِّيَ الله یعنی اسے قوم تم اس شخص کو اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ یہ کہتا ہے میر ارب اللہ ہے۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یہ تکلیف آپ صلی للی کم کی زندگی کی شدید ترین تکالیف میں سے تھی۔اکسید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے۔مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے سخت تکلیف میں رہے اور یہ تکلیف اس تکلیف سے بہت زیادہ تھی جو فرعون سے بنی اسرائیل کو پہنچی“ (21) ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 290) جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ قریش آنحضور صلی ایم کے دشمن جانی ہو گئے تھے یہ واقعات صرف چند مثالیں ہیں۔ور نہ انہوں نے تو آپ صلی لی ایم کے قتل کی کسی کوشش سے دریغ نہ کیا تھا۔اور کوئی ظلم چھوڑا نہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو صبر اور استقامت بھی عطا فرماتا تھا۔اور آپ صلی علیہم کی حفاظت بھی فرماتا تھا۔صحابہ اور صحابیات پر ڈھائے جانے والے مظالم میں حضور علیہ السلام نے آل یاسر کا ذکر کیا ہے سیرت النبی صلی ا لم لا بن ہشام میں درج ایک روایت کے مطابق سمیہ اور حضرت یا سڑکی بنی مخزوم کی ملکیت میں تھے یعنی انکے غلام تھے۔ان دونوں نے اسلام 96