سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 95 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 95

” اور جب قریش اپنے اس حیلہ میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کو بے انتہا اذیتیں اور تکلیفیں پہنچانی شروع کیں۔عزیزوں کا لہو سفید ہو گیا۔سگا چا ابو لہب دشمن جانی بن گیا۔سنگی چچی کا یہ حال تھا کہ وہ بہت سے کانٹے گوکھرو سمیٹ لیتی اور جن جن راہوں سے آپ گذرتے وہاں وہ گو کھٹڑو اور کانٹے بکھیر دیتی اور آپ کے پاؤں زخمی ہو جاتے تب آپ بیٹھ جاتے اپنے پاؤں سے بھی کانٹے نکالتے اور راستہ میں سے بھی دور کرتے تا دوسرے چلنے والے بھی اُس اذیت سے بچیں۔آپ جب وعظ کہنے کے لئے کھڑے ہوتے اور قرآن مجید پڑھتے تو لوگ غل مچاتے تا کوئی شخص اُن کی بات کو نہ سن سکے۔آپ کو کہیں کھڑا نہ ہونے دیتے اور جب آپ تنگ آکر چلے جاتے تو ان پر پتھر اور ڈھیلے پھینکے جاتے یہاں تک کہ آپ کے ٹخنے اور پنڈلیاں زخمی ہو جاتیں۔ایک دفعہ چند دشمنوں نے آپ کو تنہا پا کر پکڑ لیا اور آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے مروڑنا شروع کیا۔قریب تھا کہ آپ کی جان نکل جائے کہ اتفاق سے ابو بکر آنکلے اور انہوں نے مشکل سے چھڑایا۔اس پر ابو بکر کو اس قدر مارا پیٹا کہ وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے“ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 257-258) اور جب کفار قریش کا حد سے زیادہ ظلم بڑھ گیا۔اور انہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرناشروع کیا۔اور بعض عورتوں کو ایسی بیدردی سے مارا کہ اُن کی دونوں ٹانگیں دور سوں سے باندھ کر دو اونٹوں کے ساتھ وہ رسے خوب جکڑ دیئے اور پھر اُن اُونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اس طرح پر وہ عورتیں دو ٹکڑے ہو کر مر گئیں“ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 467) قریش نے آنحضور صلی نام پر اور صحابہ پر مظالم کا ایک دردناک سلسلہ شروع کر دیا۔اور آپ صلی علیہ ظلم کی تو جان کے درپے ہو چکے تھے کیونکہ اسلام کی روح آپ ہی کی ذات بابرکات تھی۔بنو ہاشم میں سے صرف ابو طالب اور حضرت علیؓ آپ کے ساتھ تھے۔اور اب تو قریش ابو طالب کی بھی پروانہ کرتے تھے۔کیونکہ اس کام یعنی آنحضور صلی ایم کی حمایت میں ابو طالب تنہا ہی تھے۔دوسرا چا ابو لہب اور اسکی بیوی ام جمیل بھی آپ کے مخالفین میں سے تھے۔ابو لہب وہ شخص تھا جس نے ابتدا میں ہی اسلام کی مخالفت کا اعلان کر دیا تھا ور اسکی بیوی بھی اس کے ساتھ تھی۔(19) لیکن مظالم میں اس وقت تک شامل نہ ہوئے جب تک انکو قریش کی طرف سے خطرہ پیدا نہیں ہوا۔بلکہ شعب ابی طالب کی محصوری تک کسی حد تک بنو ہاشم کے ساتھ رہا لیکن شعب ابی طالب میں 95