سیرة النبی ﷺ — Page 90
ہوتی ہے کہ وہ مقتول ہونے کے لئے تیار رہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو کہہ دیا جائے کہ یا نصرانی ہو جایا قتل کر دیا جائے گا، اس وقت دیکھنا چاہئے کہ اس کے نفس سے کیا آواز نکلتی ہے۔آیا وہ مرنے کے لئے سر رکھ دیتا ہے یا نصرانی ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔اگر وہ مرنے کو ترجیح دیتا ہے تو مومن حقیقی ہے ، ورنہ کافر ہے۔غرض ان مصائب میں جو مومنوں پر آتے ہیں اندر ہی اندر ایک لذت ہوتی ہے۔بھلا سوچو تو سہی اگر یہ مصائب لذت نہ ہوتے تو انبیاء علیهم السلام ان مصائب کا ایک دراز سلسلہ کیونکر گزارتے۔“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 517،516) صادق آن باشد که ایام بلا ے گزارد با محبت با وفا صادق وہ ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے دن محبت اور وفا کے ساتھ گزارتا ہے۔گر قضارا عاشقی گردد اسیر بوسد آز نجیر را کز آشنا اگر اتفاقا کوئی عاشق قید میں پڑ جائے تو وہ اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہو ابو طالب کے پاس قریش کے وفود: آغاز تبلیغ کے بعد جب مکہ میں اسلام کا چر چاہونے لگا اور لوگ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو قبول کرنے لگے تب قریش کے سرداروں میں بے چینی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے ہر تدبیر بروئے کار لا کر اسلام کی تعلیم کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش شروع کر دی۔کتب تاریخ وسیرت میں تاریخ کے اس دور میں قریش کے چند وفود کا ذکر ملتا ہے جو ابو طالب کے پاس آئے تاکہ آنحضور صلی للی کم کو سمجھا بجھا کر اور بڑے بڑے دنیوی لالچ دے کر تبلیغ سے روکا جائے۔ان وفود کی ابو طالب کے ساتھ اور آنحضور صلی المی نام کے ساتھ گفتگو نہایت دلچسپ ہے اور سیرت النبی صلی ال نیم کے عظیم پہلووں کو اجاگر کرتی ہے۔حضور نے اپنی تحریرات میں ان میں سے بعض کا ذکر فرما کر سیرت کے نہایت زریں گوشوں کو دکھلایا ہے۔بلکہ ان میں سے ایک واقعہ کا تو الہامی الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔جو ذیل میں درج ہے۔فرمایا: ”جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شر البریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود و قود النار اور حصب جہنم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ 90