سیرة النبی ﷺ — Page 89
کر سکیں۔بعض لوگ غلط فہمی سے کہہ اٹھتے ہیں کہ آپ تو خدا کے حبیب مصطفی اور مجتبی تھے پھر یہ مصیبتیں اور مشکلات کیوں آئیں؟ میں کہتا ہوں کہ پانی کے لئے جب تک زمین کو کھو دانہ جاوے اس کا جگر پھاڑا نہ جاوے وہ کب نکل سکتا ہے۔کتنے ہی گز گہر از مین کو کھودتے چلے جائیں تب کہیں جا کر خوشگوار پانی نکلتا ہے جو مایہ حیات ہوتا ہے۔اسی طرح وہ لذت جو خد اتعالیٰ کی راہ میں استقلال اور ثبات قدم دکھانے سے نہیں ملتی جب تک ان مشکلات اور مصائب میں سے ہو کر انسان نہ گزرے۔وہ لوگ جو اس کو چہ سے بے خبر ہیں وہ ان مصائب کی لذت سے کب آشنا ہو سکتے ہیں اور کب اسے محسوس کر سکتے ہیں۔انہیں کیا معلوم ہے کہ جب آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی تھی اندر سے ایک سرور اور لذت کا چشمہ پھوٹ نکلتا تھا، خدا پر تو گل، اس کی محبت اور نصرت پر ایمان پیدا ہو تا تھا۔محبت ایک ایسی چیز ہے کہ وہ سب کچھ کر دیتی ہے۔ایک شخص کسی پر عاشق ہوتا ہے تو معشوق کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتا۔ایک عورت کسی پر عاشق تھی اس کو کھینچ کھینچ کر لاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ، ماریں کھاتی تھی مگر وہ کہتی تھی مجھے لذت ملتی ہے جبکہ جھوٹی محبتوں فسق و فجور کے رنگ میں جلوہ گر ہونے والے عشق میں مصائب اور مشکلات کے برداشت کرنے میں ایک لذت ملتی ہے تو خیال کرو کہ وہ جو خدا تعالیٰ کا عاشق زار ہو اس کے آستانہ الوہیت پر شار ہونے کا خواہش مند ہو ، وہ مصائب اور مشکلات میں کس قدر لذت پا سکتا ہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی حالت دیکھو مکہ میں ان کو کیا کیا تکلیفیں پہنچیں۔بعض ان میں سے پکڑے گئے قسم قسم کی تکلیفوں اور عقوبتوں میں گرفتار ہوئے۔مرد تو مرد بعض مسلمان عورتوں پر اس قدر سختیاں کی گئیں کہ ان کے تصور سے بدن کانپ اُٹھتا ہے۔اگر وہ مکہ والوں سے مل جاتے تو اس وقت وہ بظاہر انکی بڑی عزت کرتے ، کیونکہ وہ انکی برادری ہی تو تھے۔مگر وہ کیا چیز تھی جس نے انکو مصائب اور اور مشکلات کے طوفان میں بھی حق پر قائم رکھا، وہ وہی لذت اور سرور کا چشمہ تھا جو حق کے پیار کی وجہ سے ان کے سینوں میں پھوٹ نکلا تھا۔ایک صحابی کی بابت لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ کاٹے گئے تو اس نے کہا کہ میں وضوء کرتا ہوں آخر لکھا ہے کہ سر کاٹو تو سجدہ کرتا ہے، کہتا ہوا مر گیا۔اس وقت اس نے دعا کی کہ یا اللہ ! حضرت کو خبر پہنچا دے۔رسول اللہ صلی اليوم اس وقت مدینہ میں تھے جبرائیل نے جا کر السلام علیکم کہا اور آپ نے علیکم السلام کہا اور اس واقعہ پر اطلاع ملی۔غرض اس لذت کے بعد جو خدا تعالیٰ میں ملتی ہے ایک کیڑے کی طرح کچل کر مر جانا منظور ہوتا ہے اور مومن کو سخت سے سخت تکالیف بھی آسان ہی ہوتی ہیں سچ پوچھو تو مومن کی نشانی ہی یہی 89