سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 85 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 85

عظيم (الزخرف:32) اور انہوں نے کہا کیوں نہ یہ قرآن دو معروف بستیوں کے کسی بڑے شخص پر اتارا گیا؟ آپ نے انبیاء کی مخالفت بوجہ بغض و حسد و تکبر کی تفصیل ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے و واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا پڑا تھا۔اور تمام قومیں اسکی دشمن ہو گئی تھیں۔جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہو نہار اور راستباز اور باہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اسکی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس مرد خدا کے ظہور سے انکی آمدنیوں اور وجاہتوں میں فرق آتا ہے۔ان کے شاگرد اور مرید انکے دام سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں۔کیونکہ تمام ایمانی اور اخلاقی اور علمی خوبیاں اس شخص میں پاتے ہیں جو خدا کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔لہذا اہل عقل اور تمیز سمجھنے لگتے ہیں کہ جو عزت بخیال علمی شرف اور تقویٰ اور پر ہیز گاری کے ان عالموں کو دی گئی تھی اب وہ اسکے مستحق نہیں رہے۔اور جو معزز خطاب ان کو دئے گئے تھے جیسے منجم الامتہ اور شمس الامتہ اور شیخ المشائخ و غیر ہ اب وہ ان کے لئے موزوں نہیں رہے۔سوان وجوہ سے اہل عقل ان سے مونہہ پھیر لیتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ناچار ان نقصانوں کی وجہ سے علماء اور مشائخ کا فرقہ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں سے حسد کرتا چلا آیا ہے۔وجہ یہ کہ خدا کے نبیوں اور ماموروں کے وقت ان لوگوں کی سخت پردہ دری ہوتی ہے۔کیونکہ دراصل وہ ناقص ہوتے ہیں اور بہت کم حصہ نور سے رکھتے ہیں اور انکی دشمنی خدا کے نبیوں اور راستبازوں سے محض نفسانی ہوتی ہے۔اور سراسر نفس کے تابع ہو کر ضرر رسانی کے منصوبے سوچتے ہیں۔بلکہ بسا اوقات وہ اپنے دلوں میں محسوس بھی کرتے ہیں کہ خدا کے ایک پاک دل بندہ کو ناحق ایذا پہنچا کر خدا کے غضب کے نیچے آگئے ہیں اور انکے اعمال بھی جو مخالف کارستانیوں کے لئے ہر وقت ان سے سرزد ہوتے رہتے ہیں ان کے دل کی قصور وار حالت کو ان پر ظاہر کرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی حسد کی آگ کا تیز انجن عداوت کے گڑھوں کی طرف ان کو کھینچے لئے جاتا ہے۔یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی عوام کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھا بلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا۔لہذاوہ اس فکر میں لگ گئے کہ کس طرح اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹادیں۔اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے انکے 85