سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 83 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 83

عد وجب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں “ حضرت اقدس نے اس حقیقت کی نہایت عارفانہ انداز میں تفصیل بیان فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود ساکر کے ان کو دکھاتا ہے۔یہ ابتلا اس لئے نازل نہیں ہو تا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام و نشان مٹادیوے۔کیونکہ یہ تو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزو جل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے اور وفادار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلا کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا دے۔یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔زبور میں حضرت داؤد کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائیش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تفرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔اگر یہ ابتلاء در میان میں نہ ہو تا تو انبیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہر گز نہ پاسکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلاء نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگادی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے بچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بیعزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا“ ( مجموعہ اشتہارات، جلد۔1، صفحہ 174-175) 83 83