سیرة النبی ﷺ — Page 82
انبیاء اور انکی جماعتوں پر ابتلاء اور انکی مخالفت کی وجوہات: قریش کی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور انکی مخالفانہ اور ظالمانہ کاروائیوں کی داستانِ دلگد از ہم پڑھتے اور سنتے ہیں۔اور آج ہر احمدی مسلمان کم و بیش اسی قسم کے جو رو جفا کا نشانہ بنا ہوا ہے۔بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مخالفانہ و معاندانہ کاروائیوں کی وجوہات کیا ہیں۔خدا تعالیٰ کیوں اپنی مخلص جماعتوں کو طویل آزمائشوں کی چکی میں سے گزارتا ہے۔قرآن کریم و احادیث اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مخالفانہ کاروائیوں کی کئی وجوہات ہیں اور ان کی حکمتیں بھی بیشمار ہیں۔نیز آخرین کی اس جماعت یعنی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے حالات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعینہ وہی وجوہات اور حکمتیں کار فرما ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھیں۔ان میں سے کچھ بیان کی جارہی ہیں۔مقام قبولیت کا حصول: شدائد و آلام میں ایک حکمت مومنین کو کندن کرنا ہے۔جسکے نتیجہ میں ان کے روحانی درجات بلند ہوتے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ " أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ“ (البقره - 215) کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تک تم پر اُن لوگوں جیسے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔انہیں سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا کر رکھ دیئے گئے یہاں تک کہ رسول اور وہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔سنو! یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق انبیاء و مامورین پر آزمائش و ابتلاء میں ایک حکمت اس مامور من اللہ کو اور اس کی قوم کو قبولیت کے بلند مقام تک پہنچانا اور الہی معارف کے بار یک دقائق انکو سمجھانا ہے۔گویا مصائب و آلام روحانی ترقی کا زینہ ہیں۔روحانی ترقی کے لئے مضطر بانہ حالت میں مانگی ہوئی دعائیں کیمیا ہیں۔ابتلاؤں کے زمانہ میں مومنین کی جماعت کو ایسی متفرعانہ دعاؤں کی خاص توفیق ملتی ہے۔ایک شعر میں آپ نے اس وسیع مضمون کو ان الفاظ میں سمو دیا ہے۔فرمایا 82