سیرة النبی ﷺ — Page 80
میں یہ کافی تھا کہ آنحضرت صلی الله ولم تقوی کے اعلیٰ مراتب پر ہیں اپنے منصب کے اظہار میں بڑی شجاعت اور استقامت رکھتے ہیں اور جس تعلیم کو لائے ہیں وہ دوسری سب تعلیموں سے صاف تر اور پاک تر اور سراسر نور ہے اور تمام اخلاق حمیدہ میں بے نظیر ہیں اور للہی جوش ان میں اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور صداقت انکے چہرہ پر برس رہی ہے۔پس انہی باتوں کو دیکھ کر انہوں نے قبول کر لیا کہ وہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 388-337) تقریباً تمام کتب تاریخ وسیرت میں حضرت ابو بکر صدیق کا قبول اسلام کا واقعہ مذکور ہے جس سے یہ بات بڑی وضاحت سے ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللی کم سے دعوی کے ثبوت میں کوئی دلیل نہیں مانگی تھی۔نیز یہ کہ بالغ مردوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام قبول کیا۔(۱۱) آنحضور صلی یکم اور حضرت ابو بکر صدیق کی دوستی اور تعلق بہت پرانا تھا۔آنحضرت صلی للہ کم کی عمر تقریباً میں 20 سال کی تھی جب سے ان دونوں کی رفاقت ثابت ہے (12) اتنی لمبی رفاقت میں بارہا حضرت ابو بکر صدیق نے آنحضور صلی للہ کلم کا صادق و امین ہونا اور اعلیٰ اوصاف سے مزین ہو نا مشاہدہ کیا ہو گا جسکی وجہ سے انکے دل میں آپ صلی ال نیم کے متعلق ایک شوشہ بھی شک وشبہ کا پیدا نہ ہوا اور دعوی کا علم ہونے پر فوراً ایمان لے آئے اور صدیق اکبر کا لقب پایا۔دور ابتلاء: اسلام کے آغاز سے ہی اسکی مخالفت کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔جیسا کہ آغاز تبلیغ کے عنوان کے تحت بھی ذکر کیا گیا ہے۔مخالفین نے ہر صورت اسلام کی تبلیغ روکنے کی کوشش کی۔اور اس کے لئے انہوں نے مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا۔مارا پیٹا، بائیکاٹ کئے اور پھر کئی مسلمانوں کو شہید بھی کیا۔لیکن ہر تکلیف پر مسلمانوں نے صبر کیا اور ثابت قدمی دکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی تاریخ کے اس دور پر بھی مختلف پہلؤوں سے اپنی تحریرات میں روشنی ڈالی ہے۔جیسا کہ فرمایا۔اور جو بڑے آدمی تھے انہوں سے دشمنی پر کمر باندھ لی یہاں تک کہ آخر کار آپ کو قتل کرنا چاہا۔اور کئی مرد اور کئی عورتیں بڑے عذاب کے ساتھ قتل کر دئے گئے “ پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466) 80