سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 78 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 78

ابو لہب نے یہ بات کہی تھی۔ڈائری نویس یا کاتب کی غلطی سے ابو جہل لکھا گیا ہے“ (فٹ نوٹ منجانب مرتب ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 379) ابو لہب کو ابو لہب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ الفاظ بول کر مخالفت کی آگ بھڑکائی تھی۔یعنی مخالفت کا پہلا شعلہ یہ شخص ابو لہب تھا۔آپ نے ابو لہب کے متعلق ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ ”ابو لہب قرآن میں عام ہے نہ خاص، مراد وہ شخص ہے جس میں التہاب واشتعال کا مادہ ہو “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 156) نیز آپ نے ابو لہب اور ابو جہل میں ایک مماثلت بھی بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ دونوں میں بے صبری تھی جیسا کہ فرمایا۔”ابو جہل اور ابو لہب میں کیا تھا؟ یہی بے صبری اور بے قراری تو تھی۔کہتے تھے تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی نہر لے آ۔ان کم بختوں نے صبر نہ کیا اور ہلاک ہو گئے“ ابتدائی مسلمان: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ( ملفوظات [2003 ایڈیشن جلد 1 صفحہ 124) ”آپ کی قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہو گئے اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوں سے دشمنی پر کمر باندھ لی“ (پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466) آپ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں اسلام قبول کرنے والے غریب اور عاجز لوگ تھے۔کتب تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے۔نیز یہ کہ قبول اسلام سے قبل اگر کوئی کچھ حیثیت معاشرہ میں رکھتا بھی تھا تو اسلام لانے کے بعد معاشرہ میں مخالفت کی وجہ سے غریب اور عاجز ہو کر رہ گیا۔سب سے پہلے حضرت خدیجہ ایمان لائیں۔وہ اگر چہ ایک امیر خاتون تھیں لیکن بحثیت عورت ایک عاجز انسان تھیں۔بچوں میں حضرت علی ایمان لائے جنکی عمر اس وقت تقریباً دس سال تھی۔(7) حضرت زید بھی ابھی بچہ ہی تھے۔(8) پھر حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام قبول کیا انکے قبول اسلام کا واقعہ تفصیل سے اگلے صفحات میں بیان کیا جائے گا۔حضرت ابو بکر صدیق 78