سیرة النبی ﷺ — Page 77
قریش کو دعوت اسلام: آنحضور صل الم نے انذِر عَشِیرتک الاقربین کے حکم کے مطابق اپنے خاندان اور قبیلہ اور قوم یعنی اہل مکہ کو دعوت اسلام دی۔اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔ایک دفعہ اوائل دعوت میں آنحضرت علی ال یکم نے ساری قوم کو بلایا۔ابو جہل وغیرہ سب ان میں شامل تھے۔اہل مجمع نے سمجھا تھا کہ یہ مجمع بھی کسی دنیوی مشورہ کے لئے ہو گا۔لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ کے آنیوالے عذاب سے ڈرایا گیا تو ابو جہل بول اٹھاتبا لک الهذا جمعتنا۔غرض باوجود اس کے کہ آنحضرت ملا ہم کو وہ صادق اور امین سمجھتے تھے مگر اس موقعہ پر انہوں نے خطرناک مخالفت کی اور ایک آگ مخالفت کی بھڑک اُٹھی، لیکن آخر آپ کامیاب ہو گئے اور آپ کے مخالف سب نیست و نابود ہو گئے “ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 4 صفحہ 379) آپ نے جس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ ایک مشہور واقعہ ہے جو متعدد کتب میں مذکور ہے بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضور صلی الم نے کوہ صفا پر چڑھ کر ہر قبیلہ کو نام لے کر بلایا جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے قریش اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات مانو گے سب نے کہا کہ ہم ضرور مانیں گے کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر سنو میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کا عذاب قریب ہے خدا پر ایمان لاؤ اس عذب سے بچ جاؤ گے۔جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو ہنسنے لگے اور ابو لہب نے کہا تبَّا لَكَ الهذا جمعتنا یعنی نعوذ بالله تجھ پر ہلاکت ہو اس بات کے لئے ہمیں جمع کیا تھا۔اور ابو لہب کے یہ الفاظ سن کے تمام لوگ منتشر ہو گئے۔اس واقعہ کے کچھ دن بعد آپ نے اپنے گھر میں قریش والوں کو دعوت دی اور کھانے کا بھی اہتمام فرمایا کھانے کے بعد جب آپ نے لوگوں کو پیغام حق پہنچانا شروع کیا تو سب لوگ چلے گئے۔ایک وضاحت: (6) تَبَّا لَكَ الهذا جَمَعتَنَا کے کتب تاریخ میں ابو لہب کے بیان کئے گئے ہیں لیکن حضور کے مذکورہ بالا ارشاد میں ابو جہل کا نام بیان کیا گیا ہے۔اس کی وجہ سہو کاتب ہے۔جیسا کہ اس صفحہ کے فٹ نوٹ میں بھی لکھا ہوا ہے کہ 77