سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 261 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 261

کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خود کشی کی طرف دوڑتے ہیں۔ایسی خود کشی کی گو بعد میں کتنی ہی تاویلیں کی جائیں مگر یہ حرکت بلاشبہ عقل اور عقلمندوں کا ننگ ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا صبر اور دشمن کا مقابلہ نہ کرنا معتبر نہیں ہے۔جس کو انتقام کا موقعہ ہی نہ ملا کیونکہ کیا معلوم ہے کہ اگر وہ انتقام پر قدرت پاتا تو کیا کچھ کرتا۔جب تک انسان پر وہ زمانہ نہ آوے جو ایک مصیبتوں کا زمانہ اور ایک مقدرت اور حکومت اور ثروت کا زمانہ ہو۔اس وقت تک اس کے سچے اخلاق ہر گز ظاہر نہیں ہو سکتے۔صاف ظاہر ہے کہ جو شخص صرف کمزوری اور ناداری اور بے اقتداری کی حالت میں لوگوں کی ماریں کھاتا مر جاوے اور اقتدار اور حکومت اور ثروت کا زمانہ نہ پاوے۔اس کے اخلاق میں سے کچھ بھی ثابت نہ ہو گا۔اور اگر کسی میدان جنگ میں حاضر نہیں ہوا تو یہ بھی ثابت نہ ہو گا کہ وہ دل کا بہادر تھا یا بزدل۔اس کے اخلاق کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم نہیں جانتے۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ اگر وہ اپنے دشمنوں پر قدرت پاتا تو ان سے کیا سلوک بجالا تا اور اگر وہ دولت مند ہو جاتا تو اس دولت کو جمع کرتا یا لوگوں کو دیتا اور اگر وہ کسی میدان جنگ میں آتا تو دم دبا کر بھاگ جاتا یا بہادروں کی طرح ہاتھ دکھاتا۔مگر خدا کی عنایت اور فضل نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اخلاق کے ظاہر کرنے کا موقعہ دیا۔چنانچہ سخاوت اور شجاعت اور حلم اور عفو اور عدل اپنے اپنے موقعہ پر ایسے کمال سے ظہور میں آئے کہ صفحہ دنیا میں اس کی نظیر ڈھونڈنالا حاصل ہے۔اپنے دونوں زمانوں میں ضعف اور قدرت اور ناداری اور ثروت میں تمام جہان کو دکھلا دیا کہ وہ ذات پاک کیسی اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی جامع تھی اور کوئی انسانی خلق اخلاق فاضلہ میں سے ایسا نہیں ہے جو اس کے ظاہر ہونے کے لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک موقعہ نہ دیا۔شجاعت، سخاوت، استقلال، عفو، حلم و غیره وغیرہ تمام اخلاق فاضلہ ایسے طور پر ثابت ہو گئے کہ دنیا میں اس کی نظیر کا تلاش کرنا طلب محال ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ جنہوں نے ظلم کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسلام کو نابود کرنا چاہا خدا نے ان کو بھی بے سزا نہیں چھوڑا۔کیونکہ ان کو بے سزا چھوڑنا گو یار است بازوں کو ان کے پیروں کے نیچے ہلاک کرنا تھا“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 447 تا450) 261